ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وارانسی پارلیمانی حلقہ: کئی معروف ہستیوں نے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی

سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے و سابق وفاقی وزیر انل شاستری کو بھی وارانسی کی نمائندگی کا موقع ملا۔ وہ 1989 میں اس پارلیمانی حلقے سے جیت درج کر کے مرکز میں وزیر بنے تھے

  • UNI
  • Last Updated: Mar 19, 2019 03:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وارانسی پارلیمانی حلقہ: کئی معروف ہستیوں نے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی
سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے و سابق وفاقی وزیر انل شاستری کو بھی وارانسی کی نمائندگی کا موقع ملا۔ وہ 1989 میں اس پارلیمانی حلقے سے جیت درج کر کے مرکز میں وزیر بنے تھے

وزیر اعظم نریندر مودی، کملا پتی ترپاٹھی، اور شیام لال یادو جیسی کئی معروف ہستیوں کو گنگا کے ساحل پر آباد وارانسی کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ مودی نے 2014 میں گجرات کے وزیر اعلی رہتے ہوئے بی جے پی امیدوار کے طور پر 56.37 فیصد رائے دہندگان کی حمایت حاصل کرتے ہوئے جیت درج کی اور وزیر اعظم کی کرسی پر فائز ہوئے ۔

اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور دو بار کے وزیر ریل رہے ترپاٹھی نے 1980 میں کانگریس کے امیدوار کے طور پر یہاں جیت درج کی۔ اترپردیش حکومت میں 1967 سے 1968 کے دوران قانون و دیگر کئی محکموں کے وزیر و سال 1980 سے 1984 تک راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین رہے شیام لال  یادو نے 1984 میں کانگریس کے امیدوار کے طور پر یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 1988 سے 1989 تک ان کے پاس وزارت زراعت کا قلمدان تھا۔

سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے و سابق وفاقی وزیر انل شاستری کو بھی وارانسی کی نمائندگی کا موقع ملا۔ وہ 1989 میں اس پارلیمانی حلقے سے جیت درج کر کے مرکز میں وزیر بنے تھے۔ بی جے پی نے 1991 میں اپنا کھاتہ کھولا اور انڈین پولیس سروس کے افسر شری چندر دکشت یہاں سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1996 سے 1999 تک شنکر پرساد جیسوال نے بی جے پی امیدوار کے طور پر یہاں سے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

کانگریس کے راجیش مشر نے 2004 کے عام انتخابات میں بی جے پی کے وجے رائے کو روکا اور پارلیمنٹ پہنچے لیکن 2009 کے انتخابات میں بی جے پی کے مرلی منوہر جوشی نے کانگریس سے یہ سیٹ چھین لی۔2019 میں سترہویں لوک سبھا کے لئے انتخابی بگل بجنے کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اترپردیش کی اقتدار میں برسوں تک ایک دوسرے کے حریف رہے سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کےاتحاد نے اس بار کے الیکشن کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ تقریبا چار دہائیوں تک وارانسی میں جیت درج کرنے والی کانگریس نے پرینکا گاندھی واڈرا کو پوروانچل کا انچارج جنرل سکریٹری بنا کر انتخابی کشتی کو پار لگانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ وزیر اعظم مودی کا اس پارلیمانی حلقے سے انتخابی میدان میں ایک بار پھر اترنا یقینی مانا جارہا ہے۔ انہیں وجوہات سے یہاں کے الیکشن نے بے حد دلچسپ شکل اختیا ر کرلی ہے۔ تقریبا دو ماہ کے بعد انیس مئی کو ہونے والے ووٹنگ پر پورا ملک ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے۔

اس پارلیمانی حلقے پر مجموعی رائے دہندگان کی تعداد 1796930 ہے جو 2014 کے عام انتخابات کے مقابلے میں 30443 زیادہ ہے ۔ اس پارلیمانی حلقے کی سبھی پانچ اسمبلی نششتوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ سال 2014 میں مودی کے حق میں 581022 ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو 292038 ووٹ ملے تھے۔ وہیں کانگریس کے اجے رائے کو 75614 اور بی ایس پی کے وجے پرکاش جیسوال کو 60579 ووٹ ملے تھے۔ وہ بالترتیب تیسرے اور چھوتے نمبر پر تھے۔

First published: Mar 19, 2019 03:35 PM IST