ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ورون نے ہنی ٹریپ اور دفاعی اطلاعات لیک کرنے کے الزامات پر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا

بی جے پی کے رہنما ورون گاندھی نے ہنی ٹریپ اور ملک کی خفیہ حفاظتی معلومات کو غیر ملکی ایجنٹوں کو لیک کرنے کے الزامات کو بے بنیاد اور بغیر ثبوت کے قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ وہ الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 22, 2016 08:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ورون نے ہنی ٹریپ اور دفاعی اطلاعات لیک کرنے کے الزامات پر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا
بی جے پی ممبرپارلیمنٹ ورون گاندھی: فائل فوٹو

نئی دہلی۔  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ورون گاندھی نے ہنی ٹریپ اور ملک کی خفیہ حفاظتی معلومات کو غیر ملکی ایجنٹوں کو لیک کرنے کے الزامات کو بے بنیاد اور بغیر ثبوت کے قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ وہ الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ مسٹر گاندھی نے ہم وطنوں کے نام آج ایک کھلا خط جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے انتہائی سنگین الزام لگائے گئے ہیں جو غیر اخلاقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہوں جنہوں نے میری شبیہ اور عوامی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے‘۔


مسٹر گاندھی نے پورے معاملے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2009 سے دفاع سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی اور دفاعی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں۔ کوئی ریکارڈ سے تصدیق کر سکتا ہے کہ وہ دفاعی مشورہ دینے والی کمیٹی کی کسی بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے جبکہ قائمہ کے بہت کم اجلاسوں میں شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار منتخب ہوئے اپوزیشن رہنما کے طور پر خفیہ معلومات تک ان کی پہنچ ہی نہیں رہی تھی تو اس کے لیک کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا، ’میں نہ تو معلومات حاصل کر رہا تھا اور نہ ہی آگے کہیں دے رہا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی معلومات رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ پارلیمانی مستقل کمیٹیوں میں انتہائی رازدارانہ معلومات کا اشتراک نہیں کیا جاتا ہے۔ایسی صورت میں یہ کہنا کہ ان کو بلیک میل کیا گیا، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔


مسٹر گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وہ ایڈمنڈ ایلن سے نہیں ملے ہیں جنہوں نے ان پر الزام لگاتے ہوئے خط لکھا ہے۔ نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ وہ کون ہے اور کیا کام کرتے ہیں۔انہوں نے ابھیشیک ورما سے ملاقات کی بات قبول کرتے ہوئے کہا کہ ابھیشیک سے ان کی ملاقات انگلینڈ میں ایک طالب علم کے طور پر ہوئی تھی اور اس نے اپنا تعارف محترمہ وینا اور سری کانت ورما کے بیٹے کے طور پر کرایا تھا۔ بعد میں ابھیشیک سے ان کی کچھ ملاقاتیں مختلف سماجی اور تجارتی تقاریب میں ہوئی تھیں لیکن ان کی یہ آخری ملاقات کئی سال پہلے ہوئی تھی۔ پورے تنازعہ کی وجوہات کے بارے میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا، ’ایلن اور ابھیشیک میں کاروباری تعلقات تھے جو بعد میں بگڑ گئے۔ ایلن تشہیر چاہتے ہیں اس لئے وہ میرے جیسے (مسٹر گاندھی) عوامی ہستی کا نام لے رہے ہیں۔ مجھے بلاوجہ ایک ایسے تنازعہ میں پھنسایا جا رہا ہے جس سے میرا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے‘۔

First published: Oct 22, 2016 08:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading