உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان سے تعلق رکھنے والے 25 ہندو پناہ گزین پہلی بار گج انتخابات میں ڈالیں گے ووٹ، ’شہریت ملنا رہا سب سے بڑا خواب‘

    ’جب سے ہمیں ہندوستانی شہریت ملی ہے، ہم اب باہر کے نہیں رہے‘۔

    ’جب سے ہمیں ہندوستانی شہریت ملی ہے، ہم اب باہر کے نہیں رہے‘۔

    سنیل نے کہا کہ 12 اگست کو راجکوٹ میں 25 پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی اور یہ ہماری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔ اب ہمارے پاس آدھار کارڈ اور دیگر ہندوستانی دستاویزات ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس بار اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک 37 سالہ مہاجر سنیل دیو مہیشوری کو اگست میں ہندوستانی شہریت ملی۔ اب وہ اگلے ماہ گجرات میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ سنیل اور 24 دیگر پاکستانی ہندو پناہ گزین راجکوٹ میں شہریت ملنے کے بعد پہلی بار ہندوستانی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے میں اور میرے والدین نے 2009 میں پاکستان چھوڑ دیا اور گجرات آگئے۔ تب سے میں اس ملک میں رہ رہا ہوں۔

      500 سے زائد پاکستانی ہندو پناہ گزین ہندوستانی شہریت ملنے کے منتظر:

      انہوں نے کہا کہ ’جب سے ہمیں ہندوستانی شہریت ملی ہے، ہم اب باہر کے نہیں رہے اور کوئی ہمیں پاکستانی نہیں کہہ سکتا۔ ہم ہندوستانی ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں‘۔ ذرائع کے مطابق راجکوٹ میں 500 سے زائد پاکستانی ہندو پناہ گزین ہندوستانی شہریت ملنے کے منتظر ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی نے اگست میں راجکوٹ میں 25 پاکستانی پناہ گزینوں کو شہریت دی تھی۔ جن میں زیادہ تر ہندو تھے۔

      ذرائع نے بتایا کہ بہت سے پناہ گزین خاندان گزشتہ 16 سال سے شہریت کے منتظر تھے اور اب جب کہ ان کے پاس شہریت ہے، وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں حصہ لیں گے۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے شہریت ایکٹ میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت پاکستان سے اقلیتوں کو ہندوستان میں شہریت حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      سنیل نے کہا کہ 12 اگست کو راجکوٹ میں 25 پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی اور یہ ہماری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔ اب ہمارے پاس آدھار کارڈ اور دیگر ہندوستانی دستاویزات ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس بار اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

      سنیل راجکوٹ کے بھگوتی پارا علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور شہر میں ایک پرائیویٹ فرم میں مارکیٹنگ ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان کی شادی 2014 میں ایک پاکستانی ہندو مہاجر سے ہوئی اور اس جوڑے کے دو بچے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: