ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد 94سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ گئے اردو شاعر گلزار دہلوی

اردو کے تجربہ کار شاعر آنند موہن زوشی عرف گلزار دہلوی کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے پانچ دن بعد جمعہ کو 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

  • Share this:
کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد 94سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ گئے اردو شاعر گلزار دہلوی
اردو کے تجربہ کار شاعر آنند موہن زوشی عرف گلزار دہلوی کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے پانچ دن بعد جمعہ کو 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اردو کے تجربہ کار شاعر آنند موہن زوشی عرف گلزار دہلوی کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے پانچ دن بعد جمعہ کو 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ جمعے کو انہیں سانس لینے میں تکلیف کی شکات پر سیکٹر 27 میں واقع کیلاش استال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں تقریبا تین بجے ان کی موت ہوگئی۔ ان کی موت سے کنبے اور ان کے چاہنے والوں میں مایوسی اور غم کا ماحول ہے۔

ملی جانکاری کے مطابق آنند موہن زوتشی عرف گلزار دہلوی کا کنبہ پہلے دیلی میں رہتا تھا۔ اب نوئیڈا کے سیکٹر 27 میں شفٹ ہو گیا ہے۔ یہ پہلے پرانی دہلی میں گلی کشمیرین میں رہتے تھے۔

واضح رہے کہ اتوار کو ہی گریٹر نوئیڈا کے شاردہ اسپتال سے کورونا سے جنگ جیت کر گلزار دہلوی گھر پہنچے تھے۔ اس دوران اسپتال سے جاتے واقت جذباتی ہوتے ہوئے میڈیکل اسٹاف سے انہون نے کہا تھا کہ آپ لوگوں نے نئی زندگی دی ہے۔ پوری طرح ٹھیک ہونے پر سبھی کو اپنے گھر کھانے پر لائیں گے۔


گلزار دہلوی یعنی پنڈت آنند موہن زوتشی کی شاعری میں ہمیشہ گنگا ۔جمنی تہذیب کی جھلک ملتی ہے۔ انہیں حب الوطنی سے بھر پور شاعر بھی کیلئے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی زبان اردو ہے اور گلزار صاحب کی اسی زبان میں تحریر لوگوں کے دلوں کو چھو گئی۔


گلزار صاحب کی غزلیں
عادتا تم نے کر دیے وعدے
عادتا ہم نے اعتبار کیا

تیری راہوں میں بارہا رک کر
ہم نے اپنا ہی انتظار کیا

اب نہ مانگیں گے زندگی یا رب
یہ گنہ ہم نے ایک بار کیا
-------------------------------
دن کچھ ایسے گذارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

آئینہ دیکھ کر تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

دل میں کچھ یوں سنبھالتا ہوں غم
جیسے زیور سنبھالتا ہے کوئی

پک گیا ہے شجر پہ پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواس کا جہان ساتھ لے گیا
وہ سارے بادبان ساتھ لے گیا

بتائیں کیا، وہ آفتاب تھا کوئی
گیا تو آسمان ساتھ لے گیا

کتاب بندگی اور اُٹھ کے چل دیا
تمام داستان ساتھ لے گیا

وہ بے پناہ پیار کرتا تھا مجھے
گیا تو میری جان ساتھ لے گیا

میں سجدے سے اُٹھا تو کوئی بھی نہ تھا
وہ پاؤں کے نشان ساتھ لے گیا

سِرے اُدھڑ گئے ہیں صبح و شام کے
وہ میرے دو جہان ساتھ لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ۙکچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے

چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے

بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے

ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
First published: Jun 12, 2020 07:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading