உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوئی بھی عدالت یہ طے نہیں کرسکتی کہ رام اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں: وی ایچ پی

    وشوہندو پریشد نے کہا ہے کہ رام کی جائے پیدائش کا فیصلہ سپریم کورٹ نہیں کرسکتا۔

    وشوہندو پریشد نے کہا ہے کہ رام کی جائے پیدائش کا فیصلہ سپریم کورٹ نہیں کرسکتا۔

    وشنوسدا شیوکوکجے نے الزام لگایا کہ ووٹ بینک کی اپنی پرانی سیاست کی وجہ سے کانگریس رام مندرکی تعمیرمیں رخنہ اندازی کررہی ہے، لیکن کمبھ میلے میں سادھوسنتوں سےوی ایچ پی اس مسئلے پر تبادلہ خیال کرے گی۔

    • Share this:
      اجودھیا تنازعہ سے متعلق مقدمہ کے سپریم کورٹ میں طویل ہونے پروشوہندو پریشد (وی ایچ پی) نے نااتفاقی کا اظہارکیا ہے۔ وی ایچ پی نے نریندرمودی حکومت پردباوڈالتے ہوئےکہا کہ بھگوان رام کے جنم بھومی پرشاندارمندرکی تعمیرکی راہ ہموارکرنے کے لئے جلد قانون بنایا جائے۔

      پریاگ راج میں 15 جنوری سے شروع ہونے والے کمبھ میلے کے دوران رام مندرموضوع پراپنی آئندہ حکمت عملی طےکرنے کا اعلان کرتے ہوئے وی ایچ پی نےکہا ہے'کوئی بھی عدالت یہ طے نہیں کرسکتی کہ پربھورام اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں'۔

      وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدروشنوسدا شیوکوکجے نے کہا "مذہبی آستھا کے معاملے عدالت کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتے۔ عدالت توقانون کے مطابق چلتے ہیں، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ اجودھیا میں رام مندرکی تعمیرکے لئے حکومت جلد قانون بنائے۔

      مدھیہ پردیش اورراجستھان کے ہائی کورٹ کے سابق جسٹس نےکہا 'کوئی بھی عدالت یہ طے نہیں کرسکتی کہ پربھورام اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں۔ اس لئے ہم شروع سے ہی کہہ رہے ہیں کہ اجودھیا میں رام مندر تعمیرکے لئے قانون بنایا جائے۔ ورنہ اس معاملے کا ملک میں لامتناہی سلسلہ چلتا رہے گا'۔

      انہوں نے زوردے کرکہا کہ موجودہ حالات کودیکھتے ہوئے وی ایچ پی کولگتا ہےکہ عدالتی عمل کے ذریعہ اجودھیا تنازعہ کا جلد حل ممکن نہیں ہے۔ کوکجےنےکہا 'ہمیں خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں بھی اجودھیا تنازعہ کا معاملہ سپریم کورٹ میں اسی طرح سے ملتوی ہوتا رہے گا، جس طرح اتنے دنوں سے ملتوی ہوتا رہا ہے'۔

      رام مندرکی تعمیرمیں رکاوٹ پیدا کررہی ہے کانگریس

      وشنوسدا شیوکوکجے نے یہ بھی بتایا کہ پریاگ راج کمبھ کے دوران 31 جنوری اوریکم  فروری کو منعقدہ 'دھرم سبھا' میں وی ایچ پی سادھو سنتوں کے ساتھ رام مندرمعاملے میں غوروخوض کرے گی۔ سادھوسنتوں کی رہنمائی کی بنیاد پرہم رام مندرمعاملے میں اپنی آئندہ حکمت عملی طےکریں گے۔  کوکجے نےالزام لگایا کہ ووٹ بینک کی اپنی پرانی سیاست کے سبب کانگریس رام مندرکی تعمیرمیں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔

      ہماچل پردیش کے سابق گورنرنےکہا 'مسلمان بھی اجودھیا تنازعہ حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن رام مندرتعمیرمیں سب سے بڑی رکاوٹ اگرکوئی ہے، تووہ کانگریس ہی ہے۔ کانگریس سے منسلک وکیل الگ الگ ہتھکنڈے اپناکراجودھیا تنازعہ کے مقدمہ کوسپریم کورٹ میں طویل کھینچنا چاہتے ہیں'۔

      لوک سبھا الیکشن کے لئے اہم موضوع

      آئندہ لوک سبھا الیکشن کے مدنظررام مندرتعمیرایک بارپھراہم موضوع بن کرابھررہا ہے۔ بی جے پی کی نیشنل کونسل کے حالیہ کنونشن میں بھی اس موضوع پرسیاست تیز ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ کیونکہ وزیراعظم نریندرمودی نے ہفتہ کوکہا ہے کہ کانگریس نہیں چاہتی ہے کہ اجودھیا معاملے کا حل نکلے، اس لئے وہ اپنے وکیلوں کے ذریعہ عدالتی عمل میں رخنہ اندازی کررہی ہے۔ اس سےقبل بی جے پی کے قومی صدرامت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی رام مندرکی تعمیرکے لئے پابند عہد ہے، لیکن کانگریس رکاوٹ بن رہی ہے اوراس کے وکلا 2019 تک اس معاملے سماعت کوملتوی کرنے کے بات کہہ چکے ہیں۔
      First published: