ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وشو ہندو پریشدکی جانب سے سی اےاے احتجاجی تحریک کا رخ موڑنےکی تیاری

وشو ہندو پریشد اور اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے شہریت قانون کے خلاف چل رہی ملک گیر تحریک کا جواب مسلم خواتین کے ذریعے ہی دینےکا منصوبہ تیارکیا ہے۔ الہ آباد میں ہونے والے وی ایچ پی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔

  • Share this:
وشو ہندو پریشدکی جانب سے سی اےاے احتجاجی تحریک کا رخ موڑنےکی تیاری
وشوہندوپریشد کی جانب سے سی اےاے احتجاجی تحریک کا رخ موڑنےکی تیاری

الہ آباد: شہریت قانون کےخلاف مسلم خواتین کی تحریک کا رخ موڑنےکےلئے وشو ہندو پریشد نے اپنے منصوبےکا اعلان کیا ہے۔ وشو ہندو پریشد نے شہریت قانون کےخلاف سڑکوں پر نکلنے والی خواتین کو مسلم سماج میں پائی جانے والے مذہبی پابندیوں کےخلاف لام بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ وی ایچ پی کی اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا گیا ہےکہ شہریت قانون کےخلاف مسلم خواتین کو گمراہ کرکے سڑکوں پر لایا گیا ہے، لیکن اب  ان خواتین کو مسلم سماج میں پائی جانے والی برائیوں کےخلاف کھڑا کیا جائےگا۔


وشو ہندو پریشد اور اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے شہریت قانون کے خلاف چل رہی ملک گیر تحریک کا جواب مسلم خواتین کے ذریعے ہی دینےکا منصوبہ تیارکیا ہے۔ الہ آباد میں ہونے والے وی ایچ پی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس  منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔ وی ایچ پی کے اجلاس میں شہریت مخالف تحریک کا رخ موڑنےکےطریقہ کار پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ وی ایچ پی کےاجلاس میں کہا گیا کہ مسلم خواتین کو ورغلا کر سڑکوں پرلایاگیا ہے، ایسے میں اس تحریک کو مسلم سماج میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف استعمال کیا جا نا چاہئے۔


الہ آباد میں ہونے والے وی ایچ پی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔
الہ آباد میں ہونے والے وی ایچ پی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔


دوسری جانب اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے بھی شہریت قانون کے مسئلے پر وشو ہندو پریشد کےساتھ مل کر کام کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ اکھاڑا پریشد نے اس مسئلہ پر ایک طرح سے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئےشہریت قانون کےخلاف چلنے والی تحریک میں شامل افراد کےساتھ سختی سے پیش آنےکا مطالبہ بھی کیا۔ اکھاڑا پریشد کےصدر مہنت نریندرگر ی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہےکہ شہریت قانون مخالف تحریک میں شامل افراد کےخلاف ملک سے غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ وشو ہندو پریشد اور اکھاڑا پریشد کےاجلاس میں اس بات پر حیرت کا اظہارکیا گیا کہ شہریت قانون کےخلاف اتنی بڑی تعداد میں مسلم خواتین سڑکوں پر کیسے نکل آئیں؟ وی ایچ پی نے یہ حکمت عملی بھی بنائی ہےکہ شہریت قانون کےخلاف تحریک میں شامل خواتین کو برقعہ اور طلاق جیسے  مسائل کے خلاف متحدکیا جائے۔ اس کےلئے وی ایچ پی نےجلد اپنی مہم شروع کرنےکا اعلان بھی کیا ہے۔
First published: Feb 06, 2020 12:08 AM IST