உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : ویلنٹائن ڈے منا رہے ایک مسلم نوجوان کو وی ایچ پی کارکن کی دھمکی ، دنگا ہو جائے گا

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    مغربی اترپردیش کے شاملی ضلع میں بدھ کو ویلنٹائن ڈے منا رہے ایک مسلم لڑکے کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔

    • Share this:

      شاملی : مغربی اترپردیش کے شاملی ضلع میں بدھ کو ویلنٹائن ڈے منا رہے ایک مسلم لڑکے کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ وشو ہندو پریشد کے علاقائی کنوینر اور بجرنگ دل کے ایک کارکن نے مبینہ "لو جہاد "کے نام پر ایک مسلم لڑکے کی پٹائی کردی اور اس کے اہل خانہ کو دھمکی بھی دی ۔ واقعہ کے وقت مسلم نوجوان ایک ریستوراں میں اپنی مبینہ ہندو گرل فرینڈ کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منارہا تھا۔
      اطلاعات کے مطابق مظفر نگر ، شاملی اور باغپت ضلع میں وی ایچ پی کا کنوینر وویک بجرنگ دل کارکنوں کے ساتھ مل کر ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پٹرولنگ کررہا تھا اور اسی دوران ایک ریسٹورینٹ میں یہ جوڑا انہیں ہاتھ آگیا ۔ وویک اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے انہیں روک دیا اور دونوں نے لڑکے کی پٹائی کردی اور اس کے اہل خانہ کو بھی ریسٹورینٹ میں بلا لیا۔
      مسلم لڑکا کے والدین جب ریسٹورینٹ پہنچے تو وی ایچ پی کنوینر وویک نے انہیں دھمکی دی اور کہا کہ ویلنٹائن ڈے کے ایک دن پہلے ہم نے کہا تھا کہ سڑکوں پر کوئی لو جہاد نہیں دکھنا چاہئے ، دیکھئے کیا ہوا ، ہم نے لو جہاد پکڑا ہے ، اس سے تو دنگا ہوجائے گا ، ہم کسی بھی قیمت پر لو جہاد کو برداشت نہیں کریں گے۔
      وی ایچ پی کنوینر کے مطابق ایک مخبر نے اس کو خبر دی تھی کہ ایک 19 سال مسل لڑکا اور 17 سالہ ہندو لڑکی ریستوراں میں ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں ، ہم بدھ کی شام تقریبا چار بجے وہاں پہنچے ، ہم لڑکی کے رہنے تک کوئی تماشہ کھڑا کرنا نہیں چاہتے تھے ، اس لئے ہم نے اسے سمجھا کر اس کے گھر بھیج دیا ، لیکن لڑکے کو پکڑ لیا اور اس کے والدین کو بلالیا ۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ اپنے لڑکے کو سمجھا لو نہیں تو اس کی وجہ سے دنگا ہوجائے گا۔
      جب وی ایچ پی کنوینر سے مسلم لڑکے کی پٹائی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ہاں بالکل ، بلکہ اس کے والدین نے بھی گھر لے جانے سے پہلے اس کی پٹائی کی تھی ۔

      First published: