உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اجلاس کے ہنگامے کی نذر چڑھنے کے لئے تمام پارٹیاں ذمہ دار: حامد انصاری

    نائب صدر حامد انصاری: فائل فوٹو

    نائب صدر حامد انصاری: فائل فوٹو

    راجیہ سبھا کے چیئرمین محمد حامد انصاری نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پوری طرح ہنگامے کی نذر چڑھ جانے پر گہری مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن اور برسر اقتدار دونوں کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا اور ان سے اپنے اس طرز عمل کا محاسبہ کرنے کی اپیل کی

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : راجیہ سبھا کے چیئرمین محمد حامد انصاری نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پوری طرح ہنگامے کی نذر چڑھ جانے پر گہری مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن اور برسر اقتدار دونوں کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا اور ان سے اپنے اس طرز عمل کا محاسبہ کرنے کی اپیل کی۔
      ڈاکٹر انصاری نے راجیہ سبھا کے 241 ویں اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے پہلے آج کہا کہ اس اجلاس میں ایوان میں مسلسل ہنگامہ اور شور شرابہ ہوتا رہا صرف خراج عقیدت پیش کرنے کے وقت ہی امن برقرار رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دسمبر 2010 میں 221 ویں اجلاس کے ختم ہونے کے وقت کہی گئی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتے تھے لیکن اس اجلاس کی طرح اس بار بھی کام کاج بری طرح متاثر رہنے کی وجہ سے انہیں یہ باتیں کہنی پڑ رہی ہیں۔
      انہوں نے کہا کہ رکن معیاری طریقے سے احتجاج کریں لیکن کام کاج کو ٹھپ نہیں کرنا چاہئے۔ کام کاج ٹھپ ہونے سے رکن مفاد عامہ کے مسائل پر بحث کرنے اور سوال کے ذریعے عاملہ کی جواب دہی طے کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن اور حزب اقتدار، سب نے نعرے بازی کرکے، پوسٹر لہرا کر اور اپنی جگہوں سے اٹھ کر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی، ایوان میں امن صرف اسی وقت رہا جب غم پیغام پڑھے گئے۔ چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ تمام ارکان کی مخالفت، رکاوٹ اور تحریک کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لئے خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے۔
      مسٹر انصاری نے کہا کہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن 16 نومبر کو نوٹوں کی منسوخی پر بامعنی بات چیت ہوئی اور پھر 24 نومبر کو بھی یہ شروع ہوئی لیکن پوری نہیں ہو سکی اور ایوان میں صرف ایک ہی بل منظور ہو پایا جو معذوروں سے متعلق تھا۔
      First published: