உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ سیکولرازم اور تکثیری ثقافت کی واضح تشریح کرے : نائب صدر حامد انصاری

    جموں : نائب صدر حامد انصاری نے آج کہا کہ ہندوستانی معاشرے کی تکثیریت اورمذہبی و ثقافتی شکل کو ذہن میں رکھ کر آئین میں سیکولر جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس میں الگ الگ شناختوں کو مٹا کر، سب کو ایک ہی شکل میں کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے

    جموں : نائب صدر حامد انصاری نے آج کہا کہ ہندوستانی معاشرے کی تکثیریت اورمذہبی و ثقافتی شکل کو ذہن میں رکھ کر آئین میں سیکولر جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس میں الگ الگ شناختوں کو مٹا کر، سب کو ایک ہی شکل میں کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے

    جموں : نائب صدر حامد انصاری نے آج کہا کہ ہندوستانی معاشرے کی تکثیریت اورمذہبی و ثقافتی شکل کو ذہن میں رکھ کر آئین میں سیکولر جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس میں الگ الگ شناختوں کو مٹا کر، سب کو ایک ہی شکل میں کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      جموں : نائب صدر حامد انصاری نے آج کہا کہ ہندوستانی معاشرے کی تکثیریت اورمذہبی و ثقافتی شکل کو ذہن میں رکھ کر آئین میں سیکولر جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس میں الگ الگ شناختوں کو مٹا کر، سب کو ایک ہی شکل میں کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ڈاکٹر انصاری نے زورآور سنگھ آڈیٹوریم میں جموں یونیورسٹی کے 16 ویں کنوکیشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سوا ارب سے بھی زیادہ آبادی میں 4635 کمیونٹی ہیں جن میں سے 78 فیصد کمیونٹیز کی نہ صرف لسانی اور ثقافتی بلکہ سماجی اقسام ہیں ۔ کل کمیونٹیز میں 19.4 فیصد مذہبی اقلیت ہیں۔
      ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ بومئي معاملے میں سیکولرزم اور تکثیری ثقافت پر سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ آ چکا ہے لیکن مختلف نظریات والی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے اس کی الگ الگ وضاحت کرتی ہیں ، لہذا اس میں ابہام در آیا ہے۔ نائب صدر نے سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ اپنے طریقے سے ان دونوں کی واضح تشریح کرے تاکہ اس پر ابہام دور ہو سکے اور اسے عمل میں لانے کے طور طریقوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
      ڈاکٹر انصاری نے سیکورلزم کے تعلق سے بومئي معاملے پر عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں ریاست کو کسی خاص مذہب کو سرپرستی دینے پر روک ہے ۔ البتہ اس پر غیر جانبداری برتنے کو کہا گیا ہے۔ قومی اتحاد کے لئے مذہبی رواداری اور بھائی چارے کو اہم عنصر مانا گیا ہے۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر پروگرام تیار کرنے پر روک لگائی گئی ہے۔
      First published: