اپنا ضلع منتخب کریں۔

    چین سے متصل ہندوستانی گاؤوں میں آرہی ہیں مشتبہ کالز، فوج چوکس ، الرٹ جاری

    نئی دہلی: حقیقی کنٹرول لائن کے قریب فوج کی تعیناتی کے بارے میں معلومات کے لئے پاکستان یا چین کے جاسوسوں سے گرام پردھان سمیت مقامی باشندوں کو کئی ٹیلی فون آنے کے بعد ہند۔چین سرحد پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    نئی دہلی: حقیقی کنٹرول لائن کے قریب فوج کی تعیناتی کے بارے میں معلومات کے لئے پاکستان یا چین کے جاسوسوں سے گرام پردھان سمیت مقامی باشندوں کو کئی ٹیلی فون آنے کے بعد ہند۔چین سرحد پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    نئی دہلی: حقیقی کنٹرول لائن کے قریب فوج کی تعیناتی کے بارے میں معلومات کے لئے پاکستان یا چین کے جاسوسوں سے گرام پردھان سمیت مقامی باشندوں کو کئی ٹیلی فون آنے کے بعد ہند۔چین سرحد پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: حقیقی کنٹرول لائن کے قریب فوج کی تعیناتی کے بارے میں معلومات کے لئے پاکستان یا چین کے جاسوسوں سے گرام پردھان سمیت مقامی باشندوں کو کئی ٹیلی فون آنے کے بعد ہند۔چین سرحد پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خود کو کرنل یا ایک مقامی افسر بتاتے ہوئے فون کنندہ علاقے میں فوج کی موجودگی اور اس کی نقل و حرکت کے وقت کے بارے میں کئی سوالات پوچھتے ہیں۔
      چانگلا اور تساگٹے گاؤں کے درمیان ڈربك گاؤں کے سرپنچ کو حال ہی میں ایک فون آیا ، جس میں فون کنندہ نے پوچھا کہ کیا فوج کے ساتھ زیر التوا معاملات حل کر لئے گئے۔ ڈربك گاؤں سمندر سے 13500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فون کے وقت فوج کے کیمپ کے اندر بیٹھے سرپنچ کو شک ہو گیا اور اس نے فون کنندہ سے اس کی شناخت کے بارے میں پوچھا۔
      فون کنندہ نے خود کو ڈپٹی کمشنر دفتر سے بتایا ، لیکن سرپنچ اسٹانجن نے اسے جھڑک دیا اور کہا کہ اس کو فوج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ سرپنچ نے یہ معلوم کرنے کے لئے مقامی ڈپٹی کمشنر آفس سے پتہ کیا ، لیکن انہیں پتہ چلا کہ اس نمبر سے کسی نے فون نہیں کیا۔ یہ نمبر فوج کو دکھایا گیا اور پھر چھان بین میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ کمپیوٹر جنریٹیڈ کال تھی۔
      اسٹانجن نے فون پر بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ یہ فون آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فون کنندہ فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور یہ جاننا جا رہا تھا کہ کیا علاقے میں سڑکیں ان کی نقل و حرکت کے لئے بنائی گئی ہیں۔
      اسٹانجن نے کہا کہ 'اس نے (فون کنندہ ) دعوی کیا کہ وہ فوج ہیڈکوارٹر سے ہے لیکن ، الٹے سیدھے سوالات سے مجھے شک ہو گیا اور میں نے اس کی فوجی افسر کو اس کی اطلاع دی۔ بعد میں فوج کو پتہ چلا کہ ہند۔ چین سرحد پر دیہات میں متعدد لوگوں کو ایسے نامعلوم نمبروں سے فون آ رہے ہیں اور کچھ معاملات میں دیہاتیوں نے نادانستہ طور پر اطلاعات بھی دیدی تھیں ۔
      فوج نے ریاستی انتظامیہ کی مدد لی اور عام طور اور بالخصوص ہند۔ چین سرحد کے ارد گرد رہ رہے لوگوں کو اس بات کے لئے بیدار کرنے کیلئے مہم چلائی گئی کہ وہ کسی بھی نامعلوم فون کنندہ کو کوئی اطلاع نہیں دیں۔ فوج نے کنٹرول لائن کے قریب اپنی تمام تنصیبات سے اپنی ذمہ داری والے علاقوں کے لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرانے کو کہا ہے تاکہ ایسے جاسوسوں کو فوجیوں کی نقل و حرکت یا سرگرمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل پائے۔
      فوج نے پہاڑی کونسل کے منتخب ارکان اور عہدیداروں سے چوکس رہنے اور مشتبہ فون کنندہ کو کوئی بھی معلومات نہیں دینے کے بارے میں آگاہ کرنے پر خصوصی زور دیا ہے ، کیونکہ ان کے پاس پاکستان اور چین سے ملحقہ سرحد کی نگرانی کر رہی فوج اور ہند۔ تبت سرحدی پولیس کے بارے میں کافی معلومات ہوتی ہیں ۔
      فوج کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ فون صرف ان لوگوں کے پاس آئے ، جو یا تو سرپنچ ہیں یا ریاستی حکومت میں نوکری کرتے ہیں اور فوجیوں اور آئی ٹی بی پی حکام کے بارے میں کچھ اطلاعات رکھتے ہیں۔ فوج نے لوگوں سے فون کنندہ کے نام، ٹیلی فون نمبر، فون آنے والے شخص کا نام اور نمبر، فون کنندہ کی طرف مانگی گئی معلومات اور ان سے کئے گئے سوالات وغیرہ نزدیکی فوجی یونٹ میں بتانے کے لیے بھی کہا ہے۔
      First published: