ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

امبیڈکر ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا عمل دلتوں اور سماج کے سبھی دبے کچلے لوگوں کے خلاف سازش: سندیپ پانڈے

سندیپ پانڈے یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے بڑا نقصان سرکار کی “ٹھوک دو” نیتی سے ہوا ہے۔ یہ ایسا نظریہ ہے جس نے آئین و قانون کی پامالی کے راستے بھی ہموار کئے ہیں اور جرائم کو بھی فروغ دیا ہے۔

  • Share this:
امبیڈکر ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا عمل دلتوں اور سماج کے سبھی دبے کچلے لوگوں کے خلاف سازش: سندیپ پانڈے
امبیڈکر ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا عمل دلتوں کے خلاف سازش: سندیپ پانڈے

لکھنئو۔ میگسیسے ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن اور سوشلسٹ پارٹی کے قومی نائب صدر سندیپ پانڈے نے کئی اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اترپردیش مختلف محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہے۔ موجودہ اقتدار میں جرائم پیشہ لوگ اور پولس دونوں بے لگام ہو گئے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اتر پردیش میں جرائم کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔


سندیپ پانڈے یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے بڑا نقصان سرکار کی “ٹھوک دو” نیتی سے ہوا ہے۔ یہ ایسا نظریہ ہے جس نے آئین و قانون کی پامالی کے راستے بھی ہموار کئے ہیں اور جرائم کو بھی فروغ دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ متعصب نظریوں اور کارگزاریوں کا بول بالا ہے۔ حکومت پولس کو اپنی مشینری  کی طرح استعمال کررہی ہے۔ جرائم روکنے میں پولس پوری طرح ناکام ہے۔ پولس کا استعمال مودی اور یوگی کے خلاف بولنے والوں ، حکومت پر تنقید کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرکے انہیں زد وکوب کرنے کے لئے کیا جارہاہے ۔ سرکار اپنے سیاسی حریفوں سے انتقام لینے میں مصروف ہے۔


سندیپ پانڈے کہتے ہیں کہ  بدعنوان لوگوں سے ضبط کی گئی عمارتوں پر بلڈوزر چلانا، انہیں زمیں دوز کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ کیا تو یہ جانا چاہئے کہ قانونی طریقے سے ایسی عمارتوں میں سماج کے غریب و دبے کچلے لوگوں کے لئے کچھ اسکیمیں  شروع کی جائیں۔ انہیں انسانی بہبود کے کاموں کے لئے استعمال کیا جائے۔ سندیپ پانڈے کے مطابق غازی آباد کے گاوں نندی میں تعمیر کئے گئے امبیڈکر ہاسٹل کو ڈٹینشن سنٹر میں تبدیل کیا جارہا ہے اور لوگ کورونا میں الجھے ہوئے ہیں۔ ڈٹینشن سنٹر کی تعمیر کسی اعتبار سے مناسب نہیں معلوم ہوتی ہے کہ حکومت کے متعصب ذہن عوام کو دوسرے مسائل میں الجھا کر اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل میں لگے ہیں۔ جو عمارت دلت سماج کے بچوں بچیوں کے لئے بنائی گئی تھی اس کو ڈٹینشن سنٹر میں تبدیل کیا جانا صرف دلت سماج ہی نہیں بلکہ ہر سماج کے دبے کچلے لوگوں کے خلاف سازش ہے۔


ڈاکٹر کفیل سے لے کر شعیب ایڈوکیٹ اور صدف جعفر تک ایسی کتنی مثالیں ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور غیر دستوری رویوں پر زبان کھولنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جن عمارتوں کو اسپتالوں میں تبدیل کیا جانا چاہئے تھا ڈٹینشن سنٹر بنائے جارہے ہیں۔ لوگوں پر وبا کا خوف طاری ہے اور حکومت کی ڈٹینشن سنٹر بنانے کی تیاری ہے۔ یہ کونسا نظریہ کون سی نیتی ہے ؟سندیپ پانڈے نے یہ بھی کہا کہ لوگ خوف  اور آتنک  کے سائے میں سانسیں لے رہیں اور اس خوف و دہشت کے لئے حکومت پوری طرح ذمہ دار ہے۔ ساتھ ہی وہ حزب اختلاف بھی جس کے لیڈروں کے سامنے نہ کوئی مقصد ہے اور نہ عوامی خدمت کا کوئی جذبہ۔ کرسیوں سے اترنا اور پھر کسی طرح کرسیاں حاصل کر لینا ہی زندگی کا مقصد ہے۔ پوری سیاست کا محور و مرکز صرف تختِ اقتدار ہے خواہ وہ بے گناہوں کی لاشوں پر ہی کیوں نہ رکھا ہو۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 14, 2020 08:02 AM IST