ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو: مذہب، سیاست اور عوام، عالموں کے خلاف بھی اٹھ رہی ہیں آوازیں

لکھنئو کے تاریخی امام باڑوں میں مجالس و ماتم کے اہتمام کو لے کر ایک بار پھر مذہبی قیادت کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ معروف عالم دین مولانا کلب جواد نے تین روز قبل اچانک یہ اعلان کردیا کہ ایک منصوبہ بند سازش اور متعصبانہ رویوں کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے تاریخی آصفی امام باڑے اور چھوٹے امام باڑے کو سیاحوں کے لئے کھول دیا لیکن مجلس و ماتم کی اجازت نہیں دی گئی جس سے شیعہ طبقے کے لوگوں میں ناراضگی ہے۔

  • Share this:
لکھنئو: مذہب، سیاست اور عوام، عالموں کے خلاف بھی اٹھ رہی ہیں آوازیں
معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کی فائل فوٹو

لکھنئو۔ مذہب و سیاست کی قربت اور ان کے مابین فاصلے، دونوں ہی ایسے پہلو ہیں جن سے عوام ہر دور ہر عہد میں بد ظن اور نالاں رہے ہیں۔ لکھنئو کے تاریخی امام باڑوں میں مجالس و ماتم کے اہتمام کو لے کر ایک بار پھر مذہبی قیادت کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ معروف عالم دین مولانا کلب جواد نے تین روز قبل اچانک یہ اعلان کردیا کہ ایک منصوبہ بند سازش اور متعصبانہ رویوں کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے تاریخی آصفی امام باڑے اور چھوٹے امام باڑے کو سیاحوں کے لئے کھول دیا لیکن مجلس و ماتم کی اجازت نہیں دی گئی جس سے شیعہ طبقے کے لوگوں میں ناراضگی ہے۔


رد عمل کے اظہار کے لئے مولانا کی جانب سے یہ اعلان بھی کردیا گیا کہ جب تک حسین آباد ٹرسٹ اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ اجازت نہیں ملے گی امام باڑوں میں مجالس کا اہتمام کیاجائے گا کیونکہ شاہان اودھ نے امام بارگاہوں کی تعمیر مذہبی جذبوں کے پیش نظر کرائی تھی تفریح اور آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے لئے نہیں۔ مجالس کا اہتمام بھی ہوا مولانا کلب جواد نے مجالس پڑھیں لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ لکھنئو کے کچھ اہم لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ مذہبی قائد صرف منظر میں بنے رہنے اور اپنے ذاتی مفاد پورے کرنے کے لئے یہ سب ہنگامے کر رہے ہیں جس سے  مذہبی جنون میں گرفتار کم پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی قیادت کا احساس کراکر اپنے مفاد پورے کئے جا سکیں۔


معروف سماجی کارکن کوکب روبینہ مرتضیٰ کہتی ہیں کہ سبھی عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے ساتھ امام بارگاہوں میں بھی مساجد کی طرح سو لوگوں کی شمولیت کے ساتھ مذہبی تقریبات کے انعقاد و اہتمام کی اجازت پہلے ہی دی جاچکی ہے۔ لہٰذا مولانا کلب جواد اور ان کے ہمنوا غیر ضروری طور پر ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی صورت حال عشرے کے دوران بھی پیدا کی گئی تھی۔ کورونا کے پیش نظر زمینی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسک لگانے جیسی احتیاطوں کی بات پہلے بھی کہی گئی تھی اور یہ عوامی تحفظ کے نقطہء نظر سے بہتر ہے۔ مولانا کلب جواد ایک معروف عالم دین ہیں ان کے چاہنے والے، ان کو ماننے والے بھی خاصی تعداد میں ہیں اور وہ عوامی بہبود کے کام بھی کرتے رہے ہیں تاہم یہ بھی دیکھا جارہاہے کہ مولانا کے ذریعے کئے جارہے اقدامات کے خلاف بھی اب آوازیں شدید ہونے لگی ہیں۔


صرف روبینہ مرتضیٰ ہی نہیں بلکہ معروف صحافی عامر صابری اور معروف عالم مولانا علی حسین بھی یہی کہتے ہیں کہ مولانا کو کوئی بھی قدم اٹھانے یا اعلان کرنے سے پہلے سبھی پہلووں ہر غور کر لینا چاہیے۔ صابری کہتے ہیں کہ سو لوگوں کی اجازت تحریری طور پر پہلے ہی دی جا چکی تھی۔ مولانا کی پیش رفت غیر ضروری اور ذاتی مفاد پر مبنی ہے۔ معروف سماجی و سیاسی رہنما سید بلال نورانی بھی یہی کہتے ہیں کہ وقف املاک سے لیکر مجالس و ماتم کی تحریکات کے پس منظر میں مولانا کی خدمات اہم ہیں لیکن ان کی سیاسی حکمت عملی قابل افسوس ہے۔ سیاست کرنے اور اپنے کنبے کے چند لوگوں کے مفاد ات کے لئے سبھی لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ اچھا نہیں۔ مولانا کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے ان کا وقار اور عوام کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 29, 2020 01:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading