ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا فیروز گاندھی واقعی مسلمان تھے؟ جانئے ان کے آبائی مذہب اور ان کی قبر کے بارے میں

گذشتہ کئی دہائیوں سے فیروز گاندھی کی آخری آرام گاہ گم نامی کا شکار رہی۔ خاص طور سے نئی نسل کو فیروز گاندھی کے آبائی مذہب اور ان کے خاندان کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہے۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پر فیروز گاندھی اور ان کے مذہب کو لیکر طرح طرح کی گمراہ کن باتیں پھیلائی جا تی رہی ہیں۔

  • Share this:
کیا فیروز گاندھی واقعی مسلمان تھے؟ جانئے ان کے آبائی مذہب اور ان کی قبر کے بارے میں
کیا فیروز گاندھی واقعی مسلمان تھے؟ جانئے ان کے آبائی مذہب اور ان کی قبر کے بارے میں

الہ آباد۔ عظیم مجاہد آزادی اور نہرو خاندان کے اہم رکن فیروز جہانگیر گاندھی کا تعلق الہ آباد سے تھا۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ فیروز گاندھی کی وفات کے بعد ان کو الہ آباد کے پارسی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے فیروز گاندھی کی آخری آرام گاہ گم نامی کا شکار رہی۔ خاص طور سے نئی نسل کو فیروز گاندھی کے آبائی مذہب اور ان کے خاندان کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہے۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پر فیروز گاندھی اور ان کے مذہب کو لیکر طرح طرح کی گمراہ کن باتیں پھیلائی جا تی رہی ہیں۔


کانگریس سے وابستہ کارکنان نے فیروزگاندھی کی آخری یادگار کی نہ صرف تزئین کاری کرائی ہے ، بلکہ اس کو عوام کے لئے کھولنے کا بندو بست  بھی کیا ہے۔ فیروز جہانگیر گاندھی ہندوستانی سیاست کے ایک ایسے رہنما تھے جن کا حقیقی رشتہ ملک کے تین وزرائے اعظم  سے تھا۔ فیروز گاندھی ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو کے داماد، اندرا گاندھی کے شوہر اور راجیو گاندھی کے والد تھے۔ فیروز گاندھی کا تعلق پارسی خاندان سے تھا جو گجرات سے ہجرت کرکے الہ آباد میں بس گیا تھا۔ فیروزگاندھی نے  اپنی پوری زندگی پارسی مذہب کے عقیدے پر گذاری۔ فیروز جہانگیرگاندھی کی وفات ۸؍ ستمبر سن ۱۹۶۰ کو ہوئی تھی۔ وصیت کے مطابق ان کو الہ آباد کے پارسی  قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ لیکن چند برسوں بعد ہی ان کی آخری آرام گاہ گمنامی کا شکار ہوکر رہ گئی۔


سات ماہ پہلے کانگریس کے مقامی کارکنان نے فیروز گاندھی کی قبر کی از سر نو تعمیر اور اس کی تزئین کاری کا بیڑا اٹھایا ۔ فیروز گاندھی کی قبرکو ایک میموریل کی شکل دینے کی شروعات کی گئی ۔ لیکن ملک میں لاک ڈاؤن لگنے سے تزئین کاری کا کام وقتی طورپر روک دیا گیا۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد فیروز گاندھی کی آخری آرام گاہ کو ایک تاریخی یادگار کی شکل دے دی گئی ہے تاکہ نئی نسل ان کی قومی خدمات اور مذہبی عقیدے سے رو شناس ہو سکے۔


فیروزگاندھی کی آخری یادگار کی تزئین کاری اور تعمیرنو میں کلیدی رول ادا کرنے والے کانگریس اقلیتی مورچے کے مقامی جنرل سکریٹری ارشاد اللہ کا کہنا ہے کہ ایک برس پہلے تک پارسی قبرستان میں فیروز گاندھی کی قبر کا پتہ لگا پانا مشکل تھا۔ لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے۔ ارشاد اللہ کا کہنا ہے کہ فیروز گاندھی کی قبر پر پہلے کتبہ موجود تھا، لیکن وہ اتنا مسخ ہو چکا تھا کہ اس کو پڑھ پانا خاصا مشکل تھا۔ گذشتہ کئی دہائیوں تک گمنامی کے اندھیرے میں رہنے کے بعد فیروزگاندھی کی آخری یادگار تک اب عوام کو رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ فیروز گاندھی کی آخری آرام گاہ کی تزئین کاری کے بعد اس کو عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ پارسی قبرستان انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی دیدار کے لئے فیروز گاندھی کی یادگار کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے  گی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 16, 2020 03:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading