ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رام نائک نے نامور شاعر پروفیسر وسیم بریلوی کی 75 ویں سالگرہ پر انہیں اعزاز سے نوازا

لکھنؤ۔ اترپردیش کے گورنر رام نائک نے کل پروفیسر وسیم بریلوی کی 75 ویں سالگرہ پر لکھنؤ یونیورسٹی میں منعقدہ امرت فیسٹیول کی تقریب میں انہیں اعزاز سے نوازتے ہوئے صد سالہ زندگی کی نیک خواہشات پیش کی۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 28, 2016 12:30 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
رام نائک نے نامور شاعر پروفیسر وسیم بریلوی کی 75 ویں سالگرہ پر انہیں اعزاز سے نوازا
فائل فوٹو

لکھنؤ۔ اترپردیش کے گورنر رام نائک نے کل پروفیسر وسیم بریلوی کی 75 ویں سالگرہ پر لکھنؤ یونیورسٹی میں منعقدہ امرت فیسٹیول کی تقریب میں انہیں اعزاز سے نوازتے ہوئے صد سالہ زندگی کی نیک خواہشات پیش کی۔ گورنر نے کہا کہ پروفیسر وسیم بریلوی معروف اردو شاعر ہیں۔ پروفیسروسیم بریلوی کا خاندان بہت بڑا ہے۔ وہ صرف بریلی، اتر پردیش یا ہندوستان تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے چاہنے والے پوری دنیا میں پھیلے ہیں۔ امرت فیسٹیول میں مراری باپو کی موجودگی دودھ میں شکر اور زعفران جیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر وسیم کا طرز صرف خوش کن ہی نہیں، بلکہ لوگوں میں اتحاد اور حب الوطنی کے شعور اجاگر کرتا ہے۔


مسٹر نائک نے کہا کہ ہمارے ملک میں متعدد زبانیں ہیں۔ اردو زبان ہندی کے بعد سب سے زیادہ سمجھی جانے والی زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشگوار اتفاق ہے کہ فورم پر بیٹھے وسیم صاحب کی مادری زبان اردو ہے، ’كتھاچاريہ‘ مراری باپو کی مادری زبان گجراتی ہے اور میری مادری زبان مراٹھی ہے، لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی زبان ہندی ہے۔ گورنر نے اپنی چار زبان میں شائع کتاب نذر بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں یہ امرت فیسٹیول کے ساتھ ساتھ ہندوستانی زبانوں کی کانفرنس اور سنگم بھی ہے۔


قصہ گو مراری باپو نے گورنر کی کتاب کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کتاب نہیں اپنا دل دیا ہے۔ انہوں نے پرو فیسر وسیم بریلوی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وسیم بریلوی اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچے ہیں۔ وسیم بریلوی کی زندگی اس چراغ کی مانند ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، صرف اجالا پھیلتا ہے۔ پروفیسروسیم بریلوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹسٹ اور قلمكار کی بات ہی کچھ اور ہے، وہ کسی کا بھی نہیں ہوتا ہے اور سب کا ہوتا ہے۔ سماج کو قریب سے دیکھنے اور متوازن کرنے میں ادب کا بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافت عظیم ہے جس میں لوگوں کو شامل کرنے کے جذبات ہیں ۔


First published: Nov 28, 2016 12:30 PM IST