ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وسیم رضوی کا پھر متنازع بیان ، مدارس اسلامیہ میں ہندو اور شیعہ برادری کے خلاف بھرا جارہا ہے زہر

اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے ایک مرتبہ پھر مدارس کو لے کر متنازع بیان دیا ہے اور اس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وسیم رضوی کا پھر متنازع بیان ، مدارس اسلامیہ میں ہندو اور شیعہ برادری کے خلاف بھرا جارہا ہے زہر
وسیم رضوی

لکھنو : اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے ایک مرتبہ پھر مدارس کو لے کر متنازع بیان دیا ہے اور اس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے سرحد سے متصل مدارس اسلامیہ کو نشانہ بنایاہے۔ وسیم رضوی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال سمیت ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں چل رہے مدارس شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں اور ان مدارس میں ہندو اور شیعہ برادری کے خلاف زہر بھرا جارہا ہے۔

وسیم رضوی نے ملک میں رہنے والے کچھ مولاناوں پر بھی دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ۔ وسیم رضوی کے مطابق ان لوگوں کو نہیں روکا گیا تو ملک میں ماحول خراب ہوجائے گا۔ وسیم رضوی نے دعوی کیا کہ ان کے پاس پختہ معلومات ہے کہ دار العلوم دیوبند میں ایک بنگلہ دیشی شہری فرضی شناختی کارڈوں سے ہندوستانی پاسپورٹ بنواکر رہ رہا ہے۔ وہ ایک تنظیم بھی چلا رہا ہے ، جس کی معلومات انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو دیدی ہے۔

شیعہ وقف بورڈ چیئرمین رضوی نے اپنےبیان میں مزید کہا کہ بنگال سے کشمیر تک برما و نیپال سرحد سے متصل مدارس میں ہندووں اور شیعہ برادری کے خلاف زہر بھرا جارہا ہے۔ کچھ غیر ملکی شدت پسند پڑھا رہے ہیں ۔ شدت پسندی کی حد یہ ہے کہ بھارت ماتا کی جے بولنے میں پریشانی ہے، جبکہ اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ ہندوستان میں رہنےو الے کچھ مولوی ہی دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی وسیم رضوی نے گزشتہ 9 جنوری کو وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر مدارس تعلیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہیں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ دہشت گرد تنظیمیں بھی غیر قانونی طریقہ سے مدرسوں کو فنڈ دے رہی ہیں، جس کی جانچ ہونی چاہئے۔

First published: Apr 01, 2018 02:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading