ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آج آئے گا نتیاجی سبھاش چندر بوس کی موت کا سچ سامنے

نئی دہلی : آزادی کی چھ دہائیوں کے بعد بھی نیتا جی کی موت کا حقیقی راز اب بھی پوشیدہ ہے اور 18 اگست 1945 کو ہوئے طیارہ حادثہ کی حقیقت کو لے کر بھی ڈھیروں سوالات ہیں

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آج آئے گا نتیاجی سبھاش چندر بوس کی موت کا سچ سامنے
نئی دہلی : آزادی کی چھ دہائیوں کے بعد بھی نیتا جی کی موت کا حقیقی راز اب بھی پوشیدہ ہے اور 18 اگست 1945 کو ہوئے طیارہ حادثہ کی حقیقت کو لے کر بھی ڈھیروں سوالات ہیں

نئی دہلی : آزادی کی چھ دہائیوں کے بعد بھی نیتا جی کی موت کا حقیقی راز اب بھی پوشیدہ ہے اور 18 اگست 1945 کو ہوئے طیارہ حادثہ کی حقیقت کو لے کر بھی ڈھیروں سوالات ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ نیتا جی سے متعلق 135 خفیہ فائلیں مرکزی حکومت کے پاس ہیں جبکہ مغربی بنگال کے پاس 64 خفیہ فائلیں ہیں۔ 64 خفیہ فائلوں کو مغربی بنگال حکومت آج عام کرے گی۔ یہ فائیلیں 1937 سے 1947 کے درمیان کی ہیں ۔ ان میں سے کچھ فائلیں ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں ۔


تاہم  عام ہونے سے قبل ہی  وہ خفیہ فائلیںآئی بی این 7 کے پاس موجود ہیں ، جو نیتا جی کی موت کی پہیلی کو سلجھاسکتی ہیں۔ ان فائلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتا جی کی موت کسی طیارے حادثے میں ہوئی ہی نہیںتھی ۔فائل نمبر -167وائی / 22، سیریل نمبر -3 اور تاریخ 29 اپریل 1949 ۔ نیتا جی کی 1945 میں مبینہ موت کے 2 سال بعد بھیجی گئی خفیہ محکمہ کی یہ رپورٹ طیارے حادثے میں نیتا جی کی موت نہ ہونے کے شک پر پہلی سرکاری مہر ہے۔


رپورٹ سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستانی ایجنسیاں جانتی تھیں کہ برطانوی خفیہ ایجنسی کو طیارے حادثے میں نیتا جی کی موت کا یقین نہیں تھا۔ نیتا جی کی موت کی تحقیقات کرنے والے مکھرجی کمیشن نے بھی تائیوان سے بات چیت کرنے کے بعد طیارے حادثے کی کہانی کو غلط بتایا تھا۔تاہم اس رپورٹ کو اس وقت کی منموہن حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔


سوال یہ ہے کہ اگر امریکی اور برطانوی ایجنسیاں مانتي تھیں کہ سبھاش چندر بوس 1945 کے بعد بھی زندہ تھے، تو کیا انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ وہ کہاں تھے؟ خفیہ رپورٹ اس سوال کا بھی جواب دیتی ہے۔ رپورٹ میں صاف صاف لکھا گیا ہے کہ 'اینگلو امریکی ذرائع یہ تقریبا طے کر چکے ہیں کہ ہندوستانی لیڈر فی الحال روس میں ہیں۔ ہندوستان میں جب مارکسوادیوں کا وقت آئے گا تب وہ دوسرے ٹيٹو، دمتروو یا ماو بننے کے لئے ٹریننگ لے رہے ہیں۔ طیارہ حادثے میں نیتاجی کی مبینہ موت کے 4 سال بعد بھی اینگلو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی مانتي ہیں کہ مشرقی ایشیا میں کمیونسٹ بغاوت کے پیچھے نیتا جی سبھاش چندر ہیں۔


خفیہ فائل کے اس انکشاف کے بعد نیتا جی کی پراسرار موت پر ریسرچ کرنے والے مانتے ہیں کہ اب مرکزی حکومت کے پاس موجود خفیہ فائلوں کو عام کرنے کا وقت بھی آ گیا ہے۔ خفیہ فائل میں ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ 'بوس زندہ ہیں اور ان کے لال چین یا روس میں ہونے کا شک ہے۔


ایجنسی نے یہ نتیجہ حادثے کے وقت نیتا جی کے ساتھ رہنے والے آزاد ہند فوج کے جنرل حبیب الرحمن کے بیانات کی بنیاد پر اخذ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حبیب الرحمن کے بیانات بعد میں متضاد ہوتے چلے گئے۔ آخر میں جنرل حبیب الرحمن نے بھی کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ نیتا جی زندہ ہیں اور وہ صحیح وقت پر واپس آئیں گے۔


امید کی جا رہی ہے کہ خفیہ فائلوں کو ڈی كلاسیفائڈ کرنے کے فیصلے کے بعد مرکز اور دنیا کی دیگر حکومتوں پر بھی نیتا جی سے وابستہ دستاویزات کو عام کرنے کا دباؤ بڑھے گا اور اس کے بعد یہ سچ بھی سامنے آ جائے گا کہ نیتا جی 1945 کے بعد بھی زندہ تھے تو وہ کہاں تھے اور آخر میں ان کا کیا ہوا۔


اس سے یہ سوال بھی کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کی تمام حکومتیں بھی یہ سچ جانتی تھیں، کیونکہ ہندوستانی حکومتوں نے طیارہ حادثے کی تھیوری کی حمایت کرنے کے باوجود اب تک ٹوکیو کی ایک مندر میں رکھے نیتا جی کے مبینہ استھی كلش کو واپس لانے کی کوشش کبھی نہیں کی۔


آئی بی کی زیادہ دلچسپی نیتا جی کے بھتیجوں کے بارے میں تھی، جو ایک وقت نیتا جی کے انتہائی قریبی تھے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے گھروں کی جاسوسی برطانوی سامراج میں شروع ہوئی تھی، لیکن چونکانے والی بات ہے کہ اسے نہرو حکومت نے بھی تقریبا دو دہائی تک جاری رکھی۔


اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ 1956 کے بعد تین بڑے کمیشن نے نیتا جی کے موت کے دعوے کی تحقیقات کی ہے۔ شاہنواز کمیٹی اور کھوسلا کمیشن نے تائیوان سے بات چیت کئے بغیر ہی یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ نیتا جی کی موت تائی هوكو ائیر بیس پر ہوئی تھی جبکہ مکھرجی کمیشن سے تائیوان حکومت نے حادثے سے متعلق بات سے انکار کر دیا تھا۔ 2005 میں تائیوان نے کہا کہ اگست 1945 میں ان کے ملک میں کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں تھا۔ لیکن حکومت نے مکھرجی کمیشن کی رپورٹ مسترد کر دی۔

First published: Sep 18, 2015 12:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading