உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار انتخابات کی کوریج میں ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این سب پر بھاری پڑا ، بڑے بڑوں نے کی تعریف

    ملک کے سب سے قابل اعتماد نیوز چینل ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انتخابی کوریج کے معاملے میں اسے کوئی پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔

    ملک کے سب سے قابل اعتماد نیوز چینل ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انتخابی کوریج کے معاملے میں اسے کوئی پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔

    ملک کے سب سے قابل اعتماد نیوز چینل ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انتخابی کوریج کے معاملے میں اسے کوئی پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔

    • Share this:

      ملک کے سب سے قابل اعتماد نیوز چینل ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انتخابی کوریج کے معاملے میں اسے کوئی پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔ اتوار کو بہار انتخابات کے نتائج کے وقت جب ملک بھر میں تذبذب کا ماحول تھا، سیاسی گلیاروں میں فکر کی لکیریں گہری تھیں، کچھ نے جلد بازی میں جشن بھی منانا شروع کر دیا تھا تب صرف ای ٹی وی اور سی این این آئی بی این نیوز چینل تھے، جس نے شک کے بادل کو ہٹاکر اور بہار کے تمام گنتی مراکز سے درست اعداد و شمار پیش کئے ۔


      صبح تقریبا نو بجے این ڈی ٹی وی نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی جیت کو دکھادیا۔ چینل پر اس اتحاد کے لئے 145 نشستوں کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔


      یہی نہیں اسٹوڈیو کے پینل میں موجود مہمانوں نے جے ڈی یو-آر جے ڈی اور کانگریس کے مهاگٹھ بندھن کی ہار کی وجوہات بھی بتانی شروع کر دی تھیں۔ 'دی انڈین ایکسپریس کے سابق ایڈیٹر ان چیف شیکھر گپتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دوسری مدت کار میں نتیش کمار کے غرور کی بہار کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ ٹائمز ناؤ، ٹی وی ٹوڈے ، نیوز ایکس بھی بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو برتری دکھا رہے تھے۔


      دریں اثنا ای ٹی وی اپنے ناظرین کو جے ڈی یو-آر جے ڈی اور کانگریس کی جیت کے عین مطابق اعداد و شمار دکھا رہا تھا۔ سی این ای آئی بی این کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر اور اینکر بھوپندر چوبے نے ناظرین کو بتا دیا تھا کہ گروپ کے چینل ای ٹی وی کے اچھے نیٹ ورک کی بدولت ہر اسمبلی سیٹ کے نتائج ہم تک پہنچ رہے ہیں۔


      صبح 10.03 منٹ پرآئی بی این سیون نے جے ڈی یو-آر جے ڈی اور کانگریس کے مهاگٹھ بندھن کی جیت بتا دی۔ آئی بی این سیون کے بعد باقی چینلوں کی نیند کھلی ، انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ ہڑبڑاہٹ میں نتائج کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے۔


      صبح سے ہی ای ٹی وی ، آئی بی این سیون ، اردو ڈاٹ نیوز 18 ڈاٹ کام ، ہندی ڈاٹ نیوز 18 ڈاٹ کام ، نیوز 18 ڈاٹ کام ، آئی بی این خبر اور آئی بی این لائیو ڈاٹ کام صحیح اعداد و شمار پیش کرنے میں باقی سب سے میلوں آگے تھے۔


      صبح 9 بج کر 30 منٹ پر آئی بی این سیون اور آئی بی این خبر نے صحیح حقیقت دکھا کر ملک کو بتا دیا تھا کہ بی جے پی ہار چکی ہے۔ اگر ہم اس وقت کی بات کریں تو بہت سے چینل اس وقت بھی بی جے پی کی جیت ہی دکھا رہے تھے۔ حیرت میں پڑے ملک بھر کے سامعین اور دنیا بھر سے اس انتخاب کو دیکھ رہے کئی لوگوں نے صحیح تصویر جاننے کے لئے ہم سے رابطہ کیا۔


      جو بات ہمارے حق میں گئی وہ پورے بہار میں وسیع پیمانے پر نیٹ ورک 18 کے رپورٹر کا ہونا تھی۔ ای ٹی وی کے رپورٹر ہر گنتی مرکز پر تھے۔ تمام اسمبلی سیٹوں پر نامہ نگاروں کی ٹیم موجود تھی اور وہ رجحانات پر باریکی سے نظر رکھے ہوئی تھی۔ وہ باقی سب سے تیز اور صحیح تھے۔ اس کی تیاری نے تمام حریف چینلوں اور ویب سائٹس کو پیچھے چھوڑنے میں ہماری مدد کی۔


      ای ٹی وی ، آئی بی این سیون ، سی این این آئی بی این کی اس کی کوریج پر تعریفوں کا انبار لگ گیا۔ سینئر صحافی سیما مصطفی نے ہماری تعریف کی اور لکھا کہ صرف این ڈی ٹی وی ، انڈیا ٹوڈے، ٹائمز ناؤ ہی نہیں اور بھی باقی چینل جنہیں میں نے نہیں دیکھا، ان سب کو اپنا سر شرم سے جھکا لینا چاہئے۔ صرف ان ایڈیٹر ان چیف کو ہی نہیں مالکان کو بھی۔ باقی جو بھی آن ایئر تھے انہیں سامنے آکر اس پر بیان جاری کر کے بتانا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے مکمل طور پر الجھن میں ڈالنے والے اعداد و شمار ہٹائے ؟ اور انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ کیوں وہ الیکشن کو بی جے پی اتحاد کے حق میں بتا رہے تھے جبکہ نتائج ایسے تھے ہی نہیں ۔


      وہ ایک عجیب صبح تھی۔ پرنے رائے، ارنب گوسوامی، راجدیپ سردیسائی اور دیگر بی جے پی کو انتخابات جتانے کی جلد بازی میں تھے۔ ان عظیم شخصیات کو صحافت میں کئی دہائیوں کا تجربہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی 20 رجحانات کے بعد سے ہی اس بات پر زور دینا شروع کر دیا کہ نتائج بی جے پی کے حق میں جا رہے ہیں۔ ایک گھنٹے میں انہوں نے ناظرین کو یہ بھی بتا دیا کہ بی جے پی جیت گئی ہے! ان چینلز میں سے کچھ نے بی جے پی کو حکومت کے قریب بھی بتایا تھا۔


      اور یہ ٹی وی کی خبر کا ہی اثر تھا کہ بی جے پی کارکنان بہار کی سڑکوں پر نکل کر جشن منانے لگے تھے۔ بی جے پی کارکنوں نے آتش بازی بھی کی ۔ آر ایس ایس میں اہم عہدے پر رہ چکے رام مادھو بھی سامنے آئے اور انہوں نے ایک چینل پر اس نام نہاد فتح کو لے کر بیان بھی دیدیا۔ مادھو نے دعوی کیا کہ بی جے پی الیکشن اس لئے جیتی کیونکہ سائنسدانوں، مصنفین اور دیگر نے اپنے ایوارڈ لوٹا کر افواہ پیدا کردی تھی۔ جی ہاں وہ بعد میں پھر سامنے آئے اور ہار قبول کی۔


      مصنف اور سیاسی ماہر مکل كیسون نے 'ٹیلی گراف کے اپنے کالم میں سی این این آئی بی این کی تعریف کی اور غلط معلومات دینے پر دیگر کی شدید تنقید کی ۔ اپنے مضمون کالنگ دیئر بلف میں امریکی انتخابات کا حوالہ دیا اور شکاگو ڈیلی ٹربیون کی ایسی ہی غلطی کی طرف اشارہ کیا۔ اسی مضمون میں انہوں نے این ڈی ٹی وی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 9 بجے تک گنتی شروع ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی پرنب رائے نے بی جے پی کی جیت کا اعلان کر دیا اور اس کی 145-149 نشستیں ملنے کا امکان بھی ظاہر کردیا۔


      'دی انڈین ایکسپریس میں ایک آرٹیکل میں صحافی پرتیک کانجی لال نے لکھا کہ 'اگر بہار میں اتوار کی صبح وقت رک گیا ہوتا تو نریندر مودی کا راج قائم ہو گیا ہوتا۔


      دن بھر ای ٹی وی ، آئی بی این سیون ، اردو ڈاٹ نیوز 18 ڈاٹ کام ، ہندی ڈاٹ نیوز 18 ڈاٹ کام ، نیوز 18 ڈاٹ کام ، آئی بی این خبر اور آئی بی این لائیو ڈاٹ کام نے باقی سب پر سبقت برقرار رکھی اور وہ بھی صحیح اعداد و شمار کے ساتھ۔


      ہماری صحیح کوریج کو سیاسی دنیا سے بھی تعریفیں ملیں۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو نے پریس کانفرنس میںای ٹی وی کے صحیح کوریج کی تعریف کی۔


      سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی آئی بی این سیون کو اس کے لئے مبارک باد دی ہے۔ بھوپندر چوبے سے بات کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ 'تمام چینل ایک مختلف تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہم مشکوک تھے۔ صرف سی این این آئی بی این نے ہی صحیح نتائج دکھائے۔


      مؤرخ رام چندر گہا نے بھی ہماری انگریزی ویب سائٹ آئی بی این لائیو ٹیگ کرتے ہوئے مبارک باد دی۔ بہار میں سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی نے بھی ہمیں مبارک باد دی۔ سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے ٹویٹ کیا اور انتخابات کے نتائج کی اس شاندار کوریج کے لئے ہمیں مبارک باد دی۔

      First published: