ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اب کیا ہوگا میرٹھ کی اسپورٹس صنعت کا، لاک ڈاؤن نے برباد کر دیا کاروبار

وپی کے بڑے صنعتی شہر میرٹھ کی پہچان سمجھی جانے والی اسپورٹس صنعت بھی لاک ڈاؤن کے سبب برے دور سے گزر رہی ہے ، گزشتہ دو ماہ سے بند کاروبار نے اس صنعت کو کافی نقصان پہنچا دیا ہے اور آنے والے وقت میں بھی حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں

  • Share this:
اب کیا ہوگا میرٹھ کی اسپورٹس صنعت کا، لاک ڈاؤن نے برباد کر دیا کاروبار
وپی کے بڑے صنعتی شہر میرٹھ کی پہچان سمجھی جانے والی اسپورٹس صنعت بھی لاک ڈاؤن کے سبب برے دور سے گزر رہی ہے ، گزشتہ دو ماہ سے بند کاروبار نے اس صنعت کو کافی نقصان پہنچا دیا ہے اور آنے والے وقت میں بھی حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں

کورونا وبا کے قہر سے پیدا ہوئے خطرے اور خوف نے لاک ڈاؤن کے دوران نہ صرف عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ کارخانے فیکٹریاں اور کاروبار بند ہونے سے اقتصادی سرگرمیوں اور ترقی کے سلسلے کو بھی روک دیا ہے۔ یوپی کے بڑے صنعتی شہر میرٹھ کی پہچان سمجھی جانے والی اسپورٹس صنعت بھی لاک ڈاؤن کے سبب برے دور سے گزر رہی ہے ، گزشتہ دو ماہ سے بند کاروبار نے اس صنعت کو کافی نقصان پہنچا دیا ہے اور آنے والے وقت میں بھی حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن 4 کے ختم ہونے کے بعد اب کچھ رعایت ملنے کے باوجود اسپورٹس صنعت کو اب نئے چیلنج کا سامنا ہے

میرٹھ میں نیلکو اسپورٹس کمپنی کے مالک امبر آنند کے مطابق اکیلے انکی کمپنی کو ہی ان دو مہینوں میں تقریباً چھ کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے پچھلا بنا ہوا سامان سپلائی نہیں کیا جا سکا اور کروڑوں کے آرڈر کینسل ہو گئے فیکٹری میں کام کرنے والے کاریگر بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں پر بیٹھے ہیں نئے آرڈرز ہے نہیں اور نہ ہی ابھی چار سے چھ ماہ تک آرڈرز ملنے کی ہی اُمید ہے ، ایکسپورٹ بند ہے اسکول کالج کو ہونے والی سپلائی میں بند ہے کچّے مال کی سپلائی ہو نہیں رہی۔


ایسے میں لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد بھی جلد حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔  امبر بتاتے ہیں کہ اقتصادی مندی کی وجہ سے کاروبار کی حالات پہلے ہی خستہ تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے کاروباریوں کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔ لاک ڈاؤن لاگو ہونے کے بعد کام بند ہونے کے باوجود فیکٹری مالکان نے پہلے مہینے اپنے کاریگروں کی تنخواہ لیکن اگلے مہینے کے لئے ان کے پاس اتنا بیلنس نہیں تھا کہ اپنے کام گاروں کو گھر بیٹھے تنخواہ دیتے جبکہ فیکٹریوں میں کام بند تھا ، کاروباری چاہتے ہیں کہ فیکٹریوں کو کھولنے کے ساتھ ایکسپورٹ اور سپلائی کھولنا میں ضروری ہے تاکہ کچے اور تیار مال کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

First published: Jun 02, 2020 07:25 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading