உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہوشیار! WhatsApp سے چوری ہو سکتی ہے آپ کی بینک ڈٹیلس، ان باتوں کا رکھنا ہوگا دھیان

    ایک چھوٹی سی غلطی سے آپ کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حال ہی میں فرضی Paytm کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آئے تھے۔ کبھی پے ٹی ایم کے وائی سی کے نام پر تو کبھی اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ اپڈیٹ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا عام خبر بن گئی ہے۔

    ایک چھوٹی سی غلطی سے آپ کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حال ہی میں فرضی Paytm کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آئے تھے۔ کبھی پے ٹی ایم کے وائی سی کے نام پر تو کبھی اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ اپڈیٹ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا عام خبر بن گئی ہے۔

    ایک چھوٹی سی غلطی سے آپ کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حال ہی میں فرضی Paytm کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آئے تھے۔ کبھی پے ٹی ایم کے وائی سی کے نام پر تو کبھی اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ اپڈیٹ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا عام خبر بن گئی ہے۔

    • Share this:
      Online Fraud in India: آن لائن فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ اسکیمرز ہر روز دھوکہ دہی کے نئے طریقے اپناتے ہیں۔ یہ اسکیمرز (WhatsApp Fraud) اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی سے آپ کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حال ہی میں فرضی Paytm کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آئے تھے۔ کبھی پے ٹی ایم کے وائی سی کے نام پر تو کبھی اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ اپڈیٹ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا عام خبر بن گئی ہے۔ اس لیے ہمیشہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ موبائل ۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں واٹس ایپ (WhatsApp) کا استعمال عام ہو گیا ہے لیکن اب فراڈ کرنے والے واٹس ایپ کو اپنا واحد ذریعہ بنا رہے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے فوری طور پر واٹس ایپ پر آنے والے لنکس اور میسجز پر کلک کر دیتے ہیں۔

      بغیر سوچے سمجھے نامعلوم لنک (Fake Links) پر کلک کرنا آپ کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے آپ کے ساتھ فراڈ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ اس طرح کے لنکس کے ذریعے آپ کی تمام معلومات اسکیمرز تک پہنچ جاتی ہیں۔
      کیسے ہوتا ہے واٹس ایپ فراڈ (WhatsApp Fraud)
      انٹرنیٹ اسکیمرز آپ کے واٹس ایپ نمبر پر ایک فشنگ لنک بھیجتے ہیں۔ یہ لنکس آپ کے کمپیوٹر پر بھی آسکتے ہیں۔ یہ لنکس دلچسپ معلومات یا آفرس سے جڑے ہوتے ہیں۔
      تہواروں کے سیزن میں اس طرح کے لنکس زیادہ بھیجے جاتے ہیں کیونکہ ان دنوں آن لائن شاپنگ (Online Shopping) اور فیسٹیول آفرس کی بھرمار ہے جیسے ہی آپ ان لنکس پر کلک کرتے ہیں آپ کے سامنے ایک نیا صفحہ کھل جاتا ہے اور اس پیج پر آپ کی ذاتی معلومات پوچھی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کا نام، موبائل نمبر، ای میل آئی ڈی، بینک اکاؤنٹ، پین نمبر، آدھار نمبر یا ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ نمبر وغیرہ۔
      ہیکرس کے ہاتھ میں آپ کی چابی
      جیسے ہی آپ ان معلومات کو اس پیج میں درج کرتے ہیں، تب ہی آپ کی تمام معلومات ہیکرز تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر ہیکرز آپ کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور اگر انہیں بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات مل جاتی ہیں تو وہ آپ کے اکاؤنٹ میں جمع رقم کو اپنے اکاؤنٹس میں ٹراسفر کر لیتے ہیں۔

      ایسی معلومات کا استعمال نہ صرف آپ کے بینک اکاؤنٹ میں گھسنے کے کام آتی ہیں بلکہ ہیکرز اس ڈٹیل کو فروخت بھی کرتے ہیں۔ تمام بینکوں، فائنینشیل سروسز سے لون وغیرہ کے جو فون کالز یا میسیج آتے ہیں یہ آپ کی ڈٹیلس بیچنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: