ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سالگرہ پر خاص: امریکی صدر نے کی بدتمیزی تو اندرا نے اس طرح چکھایا تھا مزہ

اکثر خارجہ پالیسی اور انتظامیہ کو لے کر والد جواہر لال نہرو سے اندرا گاندھی کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ لیکن شاید وہ والد سے دونوں معاملوں میں کہیں آگے کہی جا سکتی ہیں

  • Share this:
سالگرہ پر خاص: امریکی صدر نے کی بدتمیزی تو اندرا نے اس طرح چکھایا تھا مزہ
ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی

سنہ 80 کی دہائی میں ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹر گری لال جین اندرا گاندھی کے بارے میں اکثر ایک بات کہا کرتے تھے۔ پاکستان میں فوجی تختہ پلٹ کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جانے والی تھی۔ اندرا گاندھی انتخابات ہار چکی تھیں۔ جنتا پارٹی کی حکومت تھی۔ بقول گری لال، پاکستانی اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر اندرا اقتدار میں ہوتیں تو کمانڈو بھیج کر بھٹو کو چھڑوا لیتیں۔ بیشک اندرا ایسا نہیں کرتیں لیکن ان کے بارے میں پاکستانی کم ازکم ایسا ہی سوچتے تھے۔


اکثر خارجہ پالیسی اور انتظامیہ کو لے کر والد جواہر لال نہرو سے اندرا گاندھی کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ لیکن شاید وہ والد سے دونوں معاملوں میں کہیں آگے کہی جا سکتی ہیں۔ ملکی مفاد کے لئے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف سال 1971 کی جنگ کے دوران انہوں نے دنیا کی دو عظیم طاقتوں کو جس طرح آمنے سامنے کھڑا کر کے فوجی کارروائی کر کے بنگلہ دیش کو آزادی دلائی، ویسا شاید کوئی دوسرا وزیراعظم کر پاتا۔  سال 1971 میں جب مشرقی پاکستان میں شورش بہت بڑھ گئی اور اس کا اثر بھارت اور یہاں کے لوگوں پر پڑنے لگا تب کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ پاکستانی حکمراں جنرل ضیا الحق امریکہ کی آنکھ کے تارے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن انہیں پسند کرتے تھے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، ایک یہ کہ امریکہ ایشیا میں چین سے پینگیں بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ویسے صحیح بات یہ بھی ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت اور پاکستان دونوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتی تھی۔ اندرا گاندھی کو لے کر ناپسندیدگی حد سے زیادہ تھی۔ 1971 میں جب ایسا لگنے لگا کہ ہندوستان مشرقی پاکستان میں کوئی فوجی کارروائی کر کے پاکستان کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دے گا تبھی اندرا گاندھی نومبر کے مہینہ میں امریکہ پہنچی تھیں۔


ملاقات سے پہلے کی شام صدر نکسن اور وزیر خارجہ ہینری کسنجر کی بات چیت میں اندرا کے لئے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ نکسن نے انہیں اولڈ وچ کہا تو  کسنجر نے ہندوستانیوں کو باسٹرڈ۔ اگلے دن کی میٹنگ میں اندرا کو ایک سخت انتباہ دیا جانے والا تھا۔ ملاقات کی شروعات ہی گڑبڑ رہی۔ نکسن نے ہاو بھاو سے جیسے ہی شروعات کی اس کا ویسا ہی جواب اندرا سے ملا۔ اندرا نے ملاقات میں کچھ ایسا ٹھنڈا رخ اختیار کر لیا مانو انہیں نکسن کی کوئی پروا ہی نہ ہو۔ نکسن نے وارننگ دی ’’ اگر ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی ہمت کی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ہندوستان کو پچھتانا ہو گا‘‘۔ کسی اور ملک کے لئے یہ وارننگ پسینے پسینے کر دینے والی ہوتی لیکن اندرا کسی اور مٹی کی بنی تھیں۔ انہوں نے نکسن کے ساتھ ویسا ہی برتاو کیا جیسا کوئی مساوی عہدہ والا کرتا ہے۔


اندرا ملک کے وقار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنے والی تھیں۔ امریکہ دورہ سے پہلے ستمبر میں انہوں نے سوویت یونین کا بھی دورہ کیا تھا۔ ہندوستان کو ماسکو کی سیاسی حمایت کی سخت ضرورت تھی۔ جب وہ پہنچیں تو پہلے دن وزیر اعظم کشی گن سے ملاقات کرائی گئی۔ انہوں نے صاف جتا دیا کہ وہ جو بات کرنے آئی ہیں وہ ملک کے اصلی قومی صدر برجھنیو سے ہی کریں گی۔ اگلے دن ان سے بات چیت ہوئی۔ سال 1971 میں اندرا نے امریکہ اور سوویت یونین کے لئے جیسے پانسے پھینکے، وہ انتہائی نپی تلی اور سمجھداری والی خارجہ پالیسی تھی۔

خیر، امریکہ سے لوٹتے ہوئے اندرا جی پختہ عزم کر چکی تھیں کہ اب کرنا کیا ہے۔ تین دن بعد ہی دسمبر کے پہلے ہفتہ میں ہندوستانی فوجوں نے مشرقی پاکستان میں کارروائی شروع کر دی۔ پاکستانی افواج کے پیر اکھڑنے لگے۔ خبر واشنگٹن پہنچی تو نکسن بلبلا گئے۔ انہیں امید ہی نہیں تھی کہ ان کی وارننگ کے بعد بھی ہندوستان ایسا کرے گا۔ پریشان نکسن نے چین سے رابطہ قائم کیا کہ کیا وہ ہندوستان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ چین تیار نہیں ہوا کیونکہ اسے بھی لگتا تھا کہ مشرقی پاکستان کی آزادی ہی واحد حل ہے۔ اب براہ راست اندرا پر جنگ بندی کا دباو ڈالا گیا۔ دو ٹوک جواب ملا، نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ امریکہ نے اپنے ساتویں بیڑے کو بحرہند میں پہنچنے کا آرڈر دیا تو سوویت یونین فورا سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ہندوستان نے جنگ بندی تو کی لیکن سترہ دسمبر کو تب جب پاکستان کی ہار کے بعد ہندوستانی فوجوں نے ڈھاکہ میں فلیگ مارچ کیا۔

یہ ایسا وقت تھا جب بھارتی فوجیں چاہتیں تو مغرب میں پاکستانی سرحد کے اندر تک جا کر اس کے علاقے کو ہڑپ سکتی تھیں، لیکن اندرا نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ماسکو کے ذریعے واشنگٹن کو پیغام بھجوایا کہ پاکستانی سرحدوں کو ہڑپنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہیں جو کرنا تھا وہ انہوں نے کر دیا۔ مانا جاتا ہے کہ بھارت نے سب سے پہلے بنگلہ دیش کو ایک ملک کے طور پر تسلیم کیا لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ یہ کام چھ دسمبر کو بھوٹان نے سب سے پہلے کر دیا تھا۔ بھارت ایسا کرنے والا دوسرا ملک تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے ایک ماہ کے اندر ہی اندر اقوام متحدہ کے زیادہ تر ممالک نے بنگلہ دیش کو منظوری دے دی۔ اس جیت اور فوجی مہم نے یکایک اندرا اور بھارت کی شبیہ پوری دنیا میں بدل کر رکھ دی۔

نکسن کبھی اس زخم کو بھول نہیں پائے۔ یحیی خان کے ہاتھ سے پاکستان کا اقتدار چلا گیا۔ انہیں ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپنا پڑا۔ بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی ان سے سارے اختیارات اور عہدے چھین کر انہیں نظربند کر دیا۔

اندرا اس قدر دنیا بھر کے لیڈروں میں مقبول تھیں کہ 1977 ء میں انتخابات ہارنے کے بعد جب انہوں نے لندن کا دورہ کیا تو دنیا بھر کے تمام رہنماؤں نے ان سے وہاں ملاقات کی اور ویسی ہی عزت دی جو ایک ملکی سربراہ کو دی جاتی ہے۔
First published: Nov 19, 2018 12:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading