உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کس نے نمٹائے آپ کے 20 ممبر اسمبلی؟ سابق اسمبلی کے سکریٹری کی کتاب میں اٹھائے گئے سوال

    دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    دہلی میں پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کو لے کر مچےہنگامے پر آئی ایک کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ کچھ خودساختہ ماہرین اور ناتجربہ کار مشیروں کی آدھی ادھوری اور نیم پختہ رائے کی وجہ سے نہ صرف یہ تقرریاں منسوخ ہوئیں بلکہ حکمراں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی رکنیت پر بن آئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی میں پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کو لے کر مچےہنگامے پر آئی ایک کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ کچھ خودساختہ ماہرین اور ناتجربہ کار مشیروں کی آدھی ادھوری اور نیم پختہ رائے کی وجہ سے نہ صرف یہ تقرریاں منسوخ ہوئیں بلکہ حکمراں عام آدمی پارٹی ( آپ) کے 20 ممبران اسمبلی کی رکنیت پر بن آئی۔
      لوک سبھا اور دہلی اسمبلی کے سابق سکریٹری ایس کے شرما نے اپنی آنے والی کتاب 'دہلی حکومت کے پارلیمانی سکریٹریز کا سچ (انسائیداسٹوری) میں دعوی کیا ہے کہ اس معاملے میں مشورہ دینے والے ماہر اور مشیر کو دہلی کی قانونی اور آئینی حدود، طاقتوں، روایات اور اس کے پارلیمانی امور کے پس منظر کا مکمل علم نہیں تھا۔ نتیجےمیں نیم پختہ مشورہ پر پارلیمانی سکریٹری مقررکئےگئے 20 ممبران اسمبلی کی رکنیت پر بن آئی۔ کتاب میں اس سلسلے میں کسی کا نام نہیں لیا گیا ہے، لیکن ایک سینئر کمیونسٹ لیڈر اور پارلیمنٹ سکریٹریٹ کے ایک ریٹائرڈ سینئر افسر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
      کتاب میں 'کس نے نمٹائے آپ کے 20' کے عنوان سے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری سے پہلے آپ کی قیادت نے بائیں بازوکےکسی ماہر کا نام تجویز کرنے کی اپیل کی اور ان کی سفارش پر پارلیمنٹ سکریٹریٹ کے ایک سینئر افسر کی 'ایکسپرٹ رائے' لی گئی۔


      مصنف کا کہنا ہے کہ اس ماہر کو حالات کا علم تو تھا، لیکن وہ پارلیمنٹ کے بارے میں اور مکمل اختیارات والی ریاستوں اور ان کےقانون سازی کے تناظر میں تھا نہ کہ آئینی دفعات کے تحت قائم دہلی جیسی خاص اور محدود طاقت کی منفرد انتظامات کے سلسلے میں۔ ان کا خیال ہے کہ پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کے سلسلے میں کم از کم چھ یا سات ایسے نکات ہیں جن پر 'ایکسپرٹ مشورہ' میں پختگی اور موضوع کے علم کا فقدان واضح جھلکتا ہے۔
      دہلی حکومت کی طرف سے مارچ 2015 میں 21 پارلیمانی سکریٹریوں کے عمل کو کتاب میں غیر قانونی بتاتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تقرریاں ایسے کی گئیں گویا یہ حکومت میں نہ ہوکر کسی سیاسی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہو۔ اس فیصلہ کو پوری طرح خفیہ رکھا گیا اور پارٹی اور گورنر ہاؤس کو اس کی بھنک نہیں لگنے دی گئی۔


      یہاں تک کہ کابینہ سے بھی منظوری نہیں لی گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی ہائی کورٹ نے تقرریوں کے احکامات کو اگست 2017 میں منسوخ کر دیا۔ بعد میں یہ معاملہ الیکشن کمیشن پہنچا جس نے معاملے پر گہری بات چیت کے بعد پارلیمانی سکریٹری بنائے گئے ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔حالانکہ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر کمیشن اس معاملے پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔
      First published: