ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے  این آر سی مخالف احتجاج کے دوران تشدد معاملوں میں ملزمین کو کیوں نہیں مل پا رہی ہے ضمانت

کورونا وبا کے قہر نے عام معمولات زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ سرکاری دفاتر اور کورٹ کچہری کی کاروائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ لاک ڈاؤن ون کے بعد سے سرکاری دفاتر اور کورٹ کچہری بند ہونے کے سبب مقدمات کی پیروی اور سماعت نہ ہونے سے کورٹ کیسیز کی پینڈنسی بڑھ گئی ہے۔

  • Share this:
سی اے اے  این آر سی مخالف احتجاج کے دوران تشدد معاملوں میں ملزمین کو کیوں نہیں مل پا رہی ہے ضمانت
سے اے اے اور این آر سی کے خلاف 20 دسمبر کو میرٹھ میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے

سے اے اے اور این آر سی کے خلاف 20 دسمبر کو میرٹھ میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے 56 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا۔ ان میں سے کئی معاملوں میں پولیس نے پغیر منصفانہ اور جانب دارانہ طریقہ سے کارروائی کو انجام دیا تھا لیکن سنگین دفعات میں معاملہ درج ہونے کے سبب ان میں زیادہ تر افراد کو اب تک ضمانت نہیں مل سکی ہے اور یہ افراد گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں بند ہیں۔ ایسے ہی ایک معاملے میں ملزم بنائے گئے ساٹھ برس کے بیمار بزرگ محمد اقرار کی ضمانت سیشن کورٹ کے بعد ہائی کورٹ سے بھی خارج ہونے کے سبب اب تک ان کی رہائی نہیں ہو سکی ہے۔ جبکہ محمد اقرار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ  تشدد معاملے میں پولیس کی ایف آئی آر  سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر جھوٹی ثابت ہو رہی ہے۔

وہیں کورونا وبا کے قہر نے عام معمولات زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ سرکاری دفاتر اور کورٹ کچہری کی کاروائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ لاک ڈاؤن ون کے بعد سے سرکاری دفاتر اور کورٹ کچہری بند ہونے کے سبب مقدمات کی پیروی اور سماعت نہ ہونے سے کورٹ کیسیز کی پینڈنسی بڑھ گئی ہے۔ میرٹھ میں بھی فوجداری کے کچھ معاملوں میں تو کچھ کارروائی ضرور ہوئی لیکن زیادہ تر معاملوں میں سماعت نہیں ہو سکی۔


میرٹھ میں دسبمر میں تشدد کے کئی معاملوں میں ملزمین کی پیروی کرنے والی سماجی اور ملی تنظیمیں بھی اس دوران کسی طرح کی مزید پیش رفت اور مدد کرنے سے قاصر رہی ، لیکن اب ورچوئل کورٹ کے ذریعے جب مقدمات کی سماعت کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو سی اے اے  این آر سی مخالف احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کے واقعات میں ملزم بنائے گئے افراد کے معاملوں میں قانونی مدد اور پیروی کرنے والی وکلاء کی جماعتیں اور سماجی ملی تنظیمیں بھی اپنی کوششیں شروع کر رہی ہیں۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 10, 2020 11:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading