ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیوں غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں یوپی کی ضلع عدالتیں؟

واضح رہے کہ ریاست میں گذشتہ تین برسوں کے دوران وکلا ءپر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں ۔ ان حملے میں کئی وکلا ء کی موت بھی واقع ہوئی ہے ۔

  • Share this:
کیوں غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں یوپی کی ضلع عدالتیں؟
کیوں غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں یوپی کی ضلع عدالتیں ؟

الہ آباد۔ کیا یو پی کی ضلع عدالتیں وکلا ء اور موکلین کے لئے غیر محفوظ ہو گئی ہیں ؟ گذشتہ ۱۳؍ فروری کو لکھنؤ کے سیشن کورٹ میں ہوئے بم حملے  کے واقعے کے بعد یو پی میں ضلع عدالتوں کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سے پہلے الہ آباد ،آگرہ اور بجنور  کی عدالتوں میں ہوئے قاتلانہ حملوں میں کئی وکلا ء کی موت بھی واقع ہو چکی ہے ۔


آگرہ میں یو پی بار کونسل کی چیئر پرسن درویش کماری کے قتل کے بعد ہائی کورٹ نے ضلع عدالتوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کا حکم دیا تھا ۔لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک عدالتوں کی سکیورٹی کے لئے کوئی کارگر قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ یو پی میں ضلع عدالتوں کی سکیورٹی ان دنوں خدا بھروسے چل رہی ہے ۔ گذشتہ دنوں لکھنؤ کی سیشن عدالت میں بم حملے کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ یہ حملہ لکھنؤ بار ایسو سی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری سنجئے لودھی کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا ۔ بم حملے میں کئی وکلاء زخمی ہوئے تھے ۔ اس سے پہلے  الہ آباد اور بجنور کی  ضلع عدالتوں میں فائرنگ اور قتل کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔


ریاست میں گذشتہ تین برسوں کے دوران وکلا ءپر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں ۔ ان حملے میں کئی وکلا ء کی موت بھی واقع ہوئی ہے ۔


ضلع عدالتوں میں مخدوش سکیورٹی انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سال ۱۳؍ جون کو آگرہ کی دیوانی عدالت میں یو پی بار کونسل کی چیئر پرسن درویش کماری کو  ایک تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا ۔ ریاست کی ضلع عدالتوں میں امن و قانون کی  بگڑتی صورت حال نے وکلا ءکو خوف زدہ کر دیا ہے۔ قابل  غور بات یہ ہے کہ ضلع عدالتوں میں وکلا پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں  زیادہ تر وکلا ء ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسی  صورت حال میں سکیورٹی کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔

چوں کہ عدالتوں میں وکلا ء کے آنے جانے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے ، لہٰذا  عدالت کے اندر اور احاطے میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ حرکت کو آسانی سے سر انجام دیا جا سکتا ہے ۔ گرچہ مقامی پولیس ضلع عدالتوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو لیکر بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے ۔ الہ آباد کے ایس پی( سٹی )برجیش سری واستو کا کہنا ہے کہ ضلع عدالتوں میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے جلد ہی خصوصی تربیت یافتہ پولیس  اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ریاست میں گذشتہ تین برسوں کے دوران وکلا ءپر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں ۔ ان حملے میں کئی وکلا ء کی موت بھی واقع ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیشی پر آنے والے ملزمان پر بھی جان لیوا حملے آئے دن ہوتے  رہتے ہیں۔ عدالتوں میں ہونے والے اس طرح  کے مجرمانہ حملوں  سے جہاں ایک طرف وکلاء میں سخت خوف کا ماحول ہے وہیں دوسری جانب انصاف کے حصول کے لئے آنے  والے افراد بھی اپنی حفاظت کو لیکر کافی فکرمند نظر آ رہے ہیں ۔
First published: Feb 16, 2020 05:02 PM IST
  • India
  • World

India

  • Active Cases

    6,039

     
  • Total Confirmed

    6,761

     
  • Cured/Discharged

    515

     
  • Total DEATHS

    206

     
Data Source: Ministry of Health and Family Welfare, India
Hospitals & Testing centres

World

  • Active Cases

    1,205,144

     
  • Total Confirmed

    1,682,220

    +78,568
  • Cured/Discharged

    375,093

     
  • Total DEATHS

    101,983

    +6,291
Data Source: Johns Hopkins University, U.S. (www.jhu.edu)
Hospitals & Testing centres