உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    INCOME TAX DAY 2022: ہندوستان میں 24 جولائی کو انکم ٹیکس ڈے کیوں منایا جاتا ہے؟ کیا ہے وجہ؟

    31 مارچ سے پہلے انکم ٹیکس ریٹرن بھردیں ورنہ اٹھانا پڑسکتا ہے بڑا نقصان۔

    31 مارچ سے پہلے انکم ٹیکس ریٹرن بھردیں ورنہ اٹھانا پڑسکتا ہے بڑا نقصان۔

    نئے ٹیکس نظام کے تحت 2.5 لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدنی ٹیکس سے پاک ہے جبکہ پرانے نظام میں 2.25 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر چھوٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔

    • Share this:
      انکم ٹیکس ڈے 2022 (INCOME TAX DAY 2022): ہندوستان میں اس ٹیکس کے 150 سال مکمل ہونے کی یاد میں 2010 میں انکم ٹیکس ڈے یا ایاکر دیوس متعارف (Income Tax Day or Aaykar Diwas) کرایا گیا۔ یہ دن ٹیکسوں کی ادائیگی کو فروغ دینے اور ممکنہ ٹیکس دہندگان کو آگاہ کرنے کے لیے متعدد آؤٹ ریچ پروگراموں اور تقریبات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی شہریوں کا فرض ہے۔ وقت پر ٹیکس ادا کرکے ہم ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

      ہندوستان میں انکم ٹیکس کی فراہمی 24 جولائی 1860 کو جیمز ولسن نے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی حکومت کے ذریعے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے متعارف کرائی تھی۔ اس کے بعد سے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت مختلف انکم ٹیکس حکام کو ایک مخصوص نام متعارف کرایا۔

      1939 میں ایکٹ میں ترامیم کے تحت دو اہم ساختی تبدیلیاں متعارف کی گئی۔ اپیل کے افعال کو انتظامی کاموں سے الگ کر دیا گیا اور ممبئی (تب بمبئی) میں ایک مرکزی چارج بنایا گیا۔ انکم ٹیکس کی وصولی حکومت کی کمائی کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے یا ملک بھر میں مختلف ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کے لیے فنڈز کا حصول ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران انکم ٹیکس وصولی کا نظام ملک کی ضرورت کے مطابق بہت سی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔

      انکم ٹیکس ایک سلیب سسٹم کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان پر لگایا جاتا ہے- اس کا مطلب ہے کہ مختلف آمدنی والے لوگوں کے لیے ٹیکس کی شرح مختلف ہے۔ اس سال کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں حکومت نے ٹیکس کا نیا ڈھانچہ بھی متعارف کرایا ہے۔ نیا ٹیکس نظام جسے ٹیکس دہندگان کے لیے اختیاری اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، مختلف ٹیکس سلیبس پر کم ٹیکس کی شرح تجویز کرتا ہے۔
      مزید پڑھیں:

      نئے ٹیکس کا انتخاب کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کو پرانے ٹیکس نظام میں لاگو کٹوتی کو چھوڑ دینا چاہیے۔ ٹیکس دہندگان موجودہ ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس کی ادائیگی جاری رکھنے کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں جبکہ ان پر لاگو ہونے والی کسی بھی چھوٹ کا دعویٰ کرتے ہیں۔

      مزید پڑھیں: 


      نئے ٹیکس نظام کے تحت 2.5 لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدنی ٹیکس سے پاک ہے جبکہ پرانے نظام میں 2.25 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر چھوٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: