உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    علی گڑھ: جانیے کیوں ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ نے اے ایم یو کی ڈگری کو لے کر کیا سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

    ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فائل تصویر۔

    ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فائل تصویر۔

    ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ نے کہا کہ اے ایم یو کو 3 سال کے بعد طالب علم دانش کی ڈگری انسانی غلطی لگتی ہے تو انسانی غلطی میں سبھی جیل جانے چاہیے۔ ایسے میں اے ایم یو کے سبھی ڈگریوں کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔

    • Share this:
      ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ نے اے ایم یو پر لگایا فرضی ڈگری تقسیم کرنے کا الزام، کہا’سی بی آئی سے کرائیں گے جانچ‘

      علی گڑھ میں پچھلے کچھ دنوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹس دانش رحیم کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ جس میں دانش کا الزام ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کی تعریف کردی جس کے بعد یونیورسٹی کے عہدیدار اُن سے ڈگری واپس مانگ رہے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت کے لئے دانش ہائی کورٹ میں اپیل بھی کرچکے ہیں۔ ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ نے کہا کہ اے ایم یو کو 3 سال کے بعد طالب علم دانش کی ڈگری انسانی غلطی لگتی ہے تو انسانی غلطی میں سبھی جیل جانے چاہیے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگ ڈگری دینے میں انسانی غلطی کرتے ہیں اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ایسی بہت ساری فرضی ڈگریاں دی گئی ہوں گی اور تقسیم کی گئی ہوں۔ فرضی ڈگریاں تقسیم کر کے پھر بول دیں گے کہ انسانی غلطی ہوگئی۔ ایسے میں اے ایم یو کے سبھی ڈگریوں کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ اُن کی جانب سے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا جائے گا جس کے ذریعے پتہ چل پائے گا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ڈگریاں فرضی ہیں یا اصلی۔

      ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کے حامی ہیں۔ جناح اُن لوگوں کو کھانا دے رہا ہے جب کہ اے ایم یو کے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ یونیورسٹی پاکستان میں ہے۔ یہ بات ان لوگوں کو دماغ میں بٹھا لینی چاہیے کہ یہ یونیورسٹی پاکستان میں نہیں ہندوستان میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ایسے میں اگر کوئی یونیورسٹی میں غلط کام کرے گا تو اُس کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے گی ساتھ ہی قصور وار پائے جانے پر سبھی کو جیل بھیج دیا جائے گا۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: