ہوم » نیوز » No Category

معذرت غالب ، یہ تمہارا میموریل بننے نہیں دیں گے

بات سال 2001 ہے۔ ایک سینئر جرنلسٹ سے بات چیت میں مجھے آگرہ میں مرزا غالب کی جائے پیدائش پر کام کرنے کا خیال آیا۔ میں نے فورا اس سے وابستہ معلومات اکٹھا کیں اور اپنے ایک ساتھی کیمرہ مین کو لے کر چل پڑا۔ میں آگرہ کے راوت پاڑا علاقے میں موجود کالا محل پہنچا۔ یہاں سورج بھان سنگھ کی حویلی ہے ، جہاں مرزا غالب کی پیدائش ہوئی تھی۔ نکلنے سے پہلے ہی مجھے سینئر کی جانب سے تاکید کر دی گئی تھی کہ یہاں خطرہ ہے۔ مار پیٹ ہو سکتی ہے۔ میرا دل نہیں مانا اور میں وہاں چلا گیا۔ میں نے اپنے کیمرہ مین کو اسکوٹر پر پیچھے بٹھایا اور وہاں سے کچھ فاصلے پر اسکوٹر کھڑی کر دی۔ ساتھی کو میں اشارہ کر چکا تھا کہ بس کسی طرح شوٹ کرنا ہے۔ وہ اس معاملہ میں تجربہ کار تھا۔

  • News18
  • Last Updated: Jan 01, 2016 12:02 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
معذرت غالب ، یہ تمہارا میموریل بننے نہیں دیں گے
بات سال 2001 ہے۔ ایک سینئر جرنلسٹ سے بات چیت میں مجھے آگرہ میں مرزا غالب کی جائے پیدائش پر کام کرنے کا خیال آیا۔ میں نے فورا اس سے وابستہ معلومات اکٹھا کیں اور اپنے ایک ساتھی کیمرہ مین کو لے کر چل پڑا۔ میں آگرہ کے راوت پاڑا علاقے میں موجود کالا محل پہنچا۔ یہاں سورج بھان سنگھ کی حویلی ہے ، جہاں مرزا غالب کی پیدائش ہوئی تھی۔ نکلنے سے پہلے ہی مجھے سینئر کی جانب سے تاکید کر دی گئی تھی کہ یہاں خطرہ ہے۔ مار پیٹ ہو سکتی ہے۔ میرا دل نہیں مانا اور میں وہاں چلا گیا۔ میں نے اپنے کیمرہ مین کو اسکوٹر پر پیچھے بٹھایا اور وہاں سے کچھ فاصلے پر اسکوٹر کھڑی کر دی۔ ساتھی کو میں اشارہ کر چکا تھا کہ بس کسی طرح شوٹ کرنا ہے۔ وہ اس معاملہ میں تجربہ کار تھا۔

بات سال 2001 ہے۔ ایک سینئر جرنلسٹ سے بات چیت میں مجھے آگرہ میں مرزا غالب کی جائے پیدائش پر کام کرنے کا خیال آیا۔ میں نے فورا اس سے وابستہ معلومات اکٹھا کیں اور اپنے ایک ساتھی کیمرہ مین کو لے کر چل پڑا۔ میں آگرہ کے راوت پاڑا علاقے میں موجود کالا محل پہنچا۔ یہاں سورج بھان سنگھ کی حویلی ہے ، جہاں مرزا غالب کی پیدائش ہوئی تھی۔ نکلنے سے پہلے ہی مجھے سینئر کی جانب سے تاکید کر دی گئی تھی کہ یہاں خطرہ ہے۔ مار پیٹ ہو سکتی ہے۔ میرا دل نہیں مانا اور میں وہاں چلا گیا۔ میں نے اپنے کیمرہ مین کو اسکوٹر پر پیچھے بٹھایا اور وہاں سے کچھ فاصلے پر اسکوٹر کھڑی کر دی۔ ساتھی کو میں اشارہ کر چکا تھا کہ بس کسی طرح شوٹ کرنا ہے۔ وہ اس معاملہ میں تجربہ کار تھا۔


جیسے ہی بڑے دروازے سے ہم اندر داخل ہوئے، خوش قسمتی سے کوئی نظر نہیں آیا۔ کیمرہ مین نے فورا شوٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس کمرے کو بھی شوٹ کرلیا جہاں بتایا جاتا ہے غالب صاحب پیدا ہوئے تھے۔ لیکن چند سیکنڈ میں ایک تیکھی آواز آئی. ... بند کرو یہ کیمرہ .... میں نے اوپر دیکھا کہ ایک ادھیڑ عمر شخص غصے سے ہم پر چیخ رہا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ تو غالب کی جائے پیدائش ہے. .... جواب آیا کہ جاتے ہو یا پھر ابھی بتاؤں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اب اگر مزید رکا تو کیمرے تو ٹوٹے گا ہی ساتھ ہی کیمرہ مین پر بھی آفت ٹوٹ پڑے گی ۔ مجھے واپس لوٹنا پڑا۔ رول ہوئی فوٹیج کے ساتھ میں نے اسٹوری کی۔ اس دوران مجھے کئی ایسے لوگ ملے جو آن کیمرے یہ کہہ رہے تھے کہ جگہ وہی ہے۔ خوب شور مچا پھر بات دب گئی۔


گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ سال دو سال میں کوئی اس پر اسٹوری کر لیتا ہے ، پھر واویلا مچتا ہے ، حکومت کچھ دیر کیلئے کنبھ کرن کی نیند سے بیدار ہوتی ہے اور پھر خواب غفلت میں سو جاتی ہے۔ یہ حال مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کا ہے۔ ہر سال 27 دسمبر کو آگرہ کے کچھ لوگ یہاں جمع ہوکر غالب صاحب کو یاد کر لیتے ہیں۔ مطالبہ کیا جاتا ہے، پریس ریلیز جاری ہوتی ہے اور پھر بات ختم۔ایک مرتبہ 27 دسمبر آیا ، وہی چیز دہرائی گئی اور دل میں ایک عجیب سی ناراضگی ابھر آئی۔ کیوں آگرہ کے ساتھ اتنی ناانصافی برتی جاتی ہے۔ کیا آگرہ والے صرف تاج محل سے کمائی کروانے کے لئے ہیں۔ اس شہر نے ملک کو 4-4 عالمی سیاحتی مقامات دئے ہیں، تین عالمی شہرت یافتہ شعرا، غالب ، میر اور نذیر دئے ہیں، پھر بھی ہاتھ آیا ٹھینگا .... کوئی میموریل بنانے کی پہل آج تک نہیں ہوئی۔ سوال اٹھتا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں خاموش کیوں ہیں ۔


دراصل غالب کی جائے پیدائش جہاں بتائی جاتی ہے، وہاں شہر کے ایک بڑے رسوخ دار آدمی کا قبضہ ہے اور کوئی بھی ان سے نفرت مول نہیں لینا چاہتا۔ ایک شخص کی ضد کی وجہ سے دنیا میں مشہور مرزا غالب کو اپنی ہی جائے پیدائش میں دو گز زمین بھی میسر نہیں ہے۔ چلو غالب کے بارے میں کام ہو نہ ہو ، بات تو ہو ہی رہی ہے۔ بیچارے میر تقی میر کی تو بات تک کرنا پسند نہیں ہے۔


ابھی میں نے ٹوئٹر پر اس بات کو رکھا، تو ایک صاحب نے پوچھ لیا کہ اتنی جلد بازی کیا ہے ... میں پوچھتا ہوں کہ سب تو ختم ہو گیا ، اب بھی آپ کو جلدبازی لگ رہی ہے۔ دیکھنا ہے کہ سركار کی بے اعتنائی کا معاملہ کب تک چلتا ہے۔


تحریر :افسر احمد ، ایڈیٹر، آئی بی این خبرڈاٹ کام

First published: Jan 01, 2016 12:02 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading