ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلم تنظیموں نے بالآخر کیوں کیا گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ؟

جمعرات کو بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گئو ہتیا کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلم تنظیموں نے بالآخر کیوں کیا گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ؟
مسلم تنظیموں کے درمیان اس بات کو لے کر ایک رائے ہے کہ اگر حکومت گائے کے تحفظ کے بارے میں کوئی قانون بناتی ہے تو اس کو ماننے کے لئے وہ تیار ہیں۔

نئی دہلی۔ گئو ہتیا کے خلاف قانون لانے کا مطالبہ مستقل طور پر جاری ہے۔ جمعرات کو بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گئو ہتیا کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے۔ تاہم، زراعت کے وزیر رادھا موہن سنگھ کی درخواست پر سوامی نے اس بل کو واپس لے لیا۔ لیکن اس بل نے بہت سارے تنازعات کو جنم دے دیا ہے۔


بحث کا آغاز کرتے ہوئے سوامی نے کہا کہ حکومت ایسا قانون لائے جس کی ضرورت ہے۔ سوامی کے بل میں جس طرح کی باتیں تھیں ان سے سرکار کی رائے الگ تھی۔ رادھا موہن سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت آنے کے بعد سے  گائے کے تحفظ کو لے کر کئی منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔


لیکن سماجوادی پارٹی کے رکن جاوید علی نے گائے کو ایک قومی جانور کے طور پر اعلان کرنے کی مانگ کر ڈالی۔ جاوید علی کا کہنا تھا کہ چونکہ گائے کو لے کر سیاسی مفادات پورے کئے جا رہے ہیں لہذا، حکومت کو سبرامنیم سوامی کا بل تسلیم کر لینا چاہئے۔ "


کانگریس کے لیڈر راجیو شکلا نے کہا کہ 'بی جے پی منوہر پاریکر سے بات کیوں نہیں کرتی کیونکہ گوا کے وزیر اعلی نے حال میں ہی بیف تاجروں کی حمایت کی تھی۔' حالانکہ پرائیویٹ ممبر بل کو حکومت قبول کرنے کے لئے پابند نہیں ہے۔ لیکن سبرامنیم سوامی کے اس بل سے حکومت کو مسلم تنظمییں کٹگہرے میں کھڑا کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

مسلم تنظیموں کے درمیان اس بات کو لے کر ایک رائے ہے کہ اگر حکومت گائے کے تحفظ کے بارے میں کوئی قانون بناتی ہے تو اس کو ماننے کے لئے وہ تیار ہیں۔ مسلم تنظیم جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ایک قدم آگے ہیں۔ ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ حکومت کو گائے کو قومی جانور قرار دے دینا چاہئے جس کے ذریعہ گائے کا تحفظ کیا جا سکے اور وہی قانون نافذ ہونا چاہئے جو دوسرے محفوظ جانوروں کے لئے ہیں۔ '

ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ حکومت کو گائے کو قومی جانور قرار دے دینا چاہئے جس کے ذریعہ گائے کا تحفظ کیا جا سکے
ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ حکومت کو گائے کو قومی جانور قرار دے دینا چاہئے جس کے ذریعہ گائے کا تحفظ کیا جا سکے


مسلم تنظیم کا الزام ہے کہ بی جے پی سیاست کے لئے گائے کا استعمال کر رہی ہے۔ بلکہ گائے کو قومی جانور کے طور پراعلان کرانے کے لئے جمعیتہ علماء ہند نے ممبئی ایکتا کانفرنس کا انعقاد کیا اور باقاعدہ لوگوں کو عہد دلایا گیا ہے جس سے اس مہم کو آگے بڑھایا جائے۔ حالانکہ بعض مسلم تنظیموں کی رائے اس سے تھوڑی مختلف ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری سلیم انجینئر کا کہنا ہے کہ حکومت جو بھی قانون بنائے گی اس کی حمایت کریں گے۔ لیکن اس سلسلے میں اپنی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں پیش کریں گے۔ ممبئی کی ایکتا کانفرنس میں آریہ سماجی اور سماجی کارکن سوامی اگنی ویش نے کہا کہ جو لوگ جانوروں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے خلاف بھی حکومت کو قانون بنانا چاہئے۔ خاص طور پر جب گائے دودھ دینا بند کر دیتی ہے اور بیل بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

جمعیتہ علماء ہند کے اس مطالبہ کی حمایت شیعہ پرسنل لا بورڈ کے یعسوب عباس نے بھی کی ہے۔ یعسوب عباس نے کہا، 'ان کے یہاں باقاعدہ یہ فتوی ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کے کام کرنے پر تکلیف ہو تو یہ حرام ہے۔ لیکن سوامی کے بل سے وہ اتفاق نہیں رکھتے ہیں۔ یعسوب عباس کا کہنا ہے کہ انسان کی جان زیادہ ضروری ہے۔

گئو ہتیا کے خلاف کوئی مرکزی قانون نہیں ہے۔ لیکن آئین کی دفعہ 48 کے مطابق، ریاستوں کو دودھ دینے والے جانوروں جس میں گائے بھی شامل ہے کے تحفظ کو لے کر قانون بنانے کا اختیار ہے۔
گئو ہتیا کے خلاف کوئی مرکزی قانون نہیں ہے۔ لیکن آئین کی دفعہ 48 کے مطابق، ریاستوں کو دودھ دینے والے جانوروں جس میں گائے بھی شامل ہے کے تحفظ کو لے کر قانون بنانے کا اختیار ہے۔


ظاہر ہے حالات کا اندازہ مسلم تنظیموں کو بھی ہے۔ ان کا واضح الزام ہے کہ حکومت کی دوہری پالیسی ہے۔ کہیں پابندی ہے تو کہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ چاہے بی جے پی کے زیرا اقتدار گوا ہو یا پھر ناگالینڈ جہاں بی جے پی حکومت کا حصہ ہے۔

جمیعتہ علماء ہند کا دعوی ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دئیے جانے پر پورے ملک میں بیف پر پابندی لگ جائے گی اور پھر اس سے منسلک تشدد کو روکا جا سکے گا۔ بی جے پی کے لئے اس مسئلے پر دقت پیدا ہو سکتی ہے۔ سیاسی طور پر، بی جے پی اس مسئلے کا فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ مسلم تنظیموں کے اس قسم کے مطالبہ سے بی جے پی کی مشکل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گئو ہتیا کے خلاف کیا ہے قانون ؟

گئو ہتیا کے خلاف کوئی مرکزی قانون نہیں ہے۔ لیکن آئین کی دفعہ 48 کے مطابق، ریاستوں کو دودھ دینے والے جانوروں جس میں گائے بھی شامل ہے کے تحفظ کو لے کر قانون بنانے کا اختیار ہے۔ 26 اکتوبر، 2005 کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مانا تھا کہ ریاستوں کے پاس گئو ہتیا کے خلاف قانون بنانے کا اختیار ہے۔
First published: Feb 05, 2018 02:04 PM IST