உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ramadan 2022: ’مسجد میں چندہ دینے کے معاملہ پر لاپرواہی کیوں؟‘ راجستھان کے مولانا کی زوردارتقریر، ویڈیو وائرل

    مولانا  شمس الدین قادری

    مولانا شمس الدین قادری

    نیوز18اردو نے راجستھان کے مکرانہ شہر کی سنی جامع مسجد کے امام مولانا شمس الدین قادری سے ربط کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مکرانہ شہر مسلمانوں کی بڑی تعداد پتھر کا کام کرتی ہے اور انہیں آسان الفاظ میں دین سے جڑے مسائل سے واقف کروایا جاتاہے۔

    • Share this:
      رمضان المبارک کے دوران مساجد میں روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں فرزندِ توحید کی بڑی تعداد نمازوں کی ادائیگی کے لیے مشغول رہتی ہیں۔ مساجد میں پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ تراویح اور تہجد کی باجماعت ادائیگی کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران نہ صرف مساجد میں رونقیں نظر آتی ہیں بلکہ مساجد کے اخراجات میں اضافہ بھی ہوجاتاہے یہی وجہ ہے کہ مساجد کے ذمہ داران مصلیوں سے چندے اور عطیات طلب کرتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی یہ تصور کیا ہے کہ مسجد کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟

      رمضان المبارک اور مساجد کے ضمن میں ہماری ذمہ داریوں سے متعلق رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے روز راجستھان کے مکرانہ شہر کی سنی جامع مسجد کے امام و خطیب صاحب مولانا شمس الدین قادری کا ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر کافی شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں مولانا شمس الدین قادری مسجد کو آنے والے مصلیوں کو مسجد میں قیام کے آداب سے واقف کروارہے ہیں۔ مولانا شمس الدین قادری کا یہ ویڈیو رمضان المبارک 2022 کے پہلے جمعہ کے موقع پر 8 اپریل کے روز ریکارڈ کیا گیا ہے۔

      جمعہ کے خطبہ سے پہلے تقریر کے دوران مولانا شمس الدین قادری نے کہا کہ مسلمان، قوم بالخصوص مکرانہ کے مسلمان خوابِ غفلت میں زندگی گز رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے پہلے تین دنوں تک مساجد میں مصلیوں کی بڑی تعداد دیکھی جاتی ہے لیکن رمضان المبارک کے چوتھے روزے سے مساجد میں مصلیوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سوچ یہ بن چکی ہے کہ سال کے 11 مہینے کیسے گز ر گئے ویسے ہی رمضان المبارک گزر جائے گا۔

      مولانا شمس الدین قادری نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کو چاہیے کہ مساجد میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ مسجد کو چندہ یا عطیہ دینے کے لیے معاملہ آتا ہے تو ہم لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مولانا نے برہم ہوکر کہا کہ مسجد میں فین، کولر کا استعمال کرتے ہیں ، آگر سوجاتے ہیں لیکن مسجد میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر کچھ نہیں کرتے ہیں۔ مسجد کو مسافر خانہ نہ بنائیں۔

      مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان، لیکن پہلے سے وعدہ شدہ اردو کی 558 ملازمتیں ہنوز خالی!

      مولانا شمس الدین قادری نے موجودہ حالات پر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مسجد، ہماری مسجد کہنا کافی نہیں ہے یہ مسجد آپ کے باپ کی نہیں ہے یہ اللہ کا گھر ہے۔؟مسجد کا احترام کریں۔ آپ بھی دیکھئے مولانا شمس الدین قادری کا یہ مکمل ویڈیو جو اس مسجد کے آفیشل یوٹیو پ چینل پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔
      نیوز18اردو نے راجستھان کے مکرانہ شہر کی سنی جامع مسجد کے امام مولانا شمس الدین قادری سے ربط کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مکرانہ شہر مسلمانوں کی بڑی تعداد پتھر کا کام کرتی ہے اور انہیں آسان الفاظ میں دین سے جڑے مسائل سے واقف کروایا جاتاہے۔


      مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں کونسے محکمہ میں ہیں خالی آسامیاں؟ کہاں کہاں ہیں ملازمتیں، جانیے مکمل تفصیلات

      مولانا نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روز اس موضوع پر گفتگو کی گئی کہ مساجد کے سلسلے میں مسلمانوں کے رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مولانا شمس الدین قادری نے کہا کہ مصلیوں کی بڑی تعداد ، مجلہ میں موجود مساجد میں نماز تو ادا کرتی ہے لیکن عطیہ اور چندے دینے سے گریز کیاجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ خطاب کے دوران ان باتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

      انہوں نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ امت ِ مسلماں ، خواب غفلت میں ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ مساجد اور دینی مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے چاہیے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: