உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس حاصل کر سکے گی اپنا کھویا ہوا وقار اور اقتدار؟کیا سڑکوں پر اترنے سے بدلیں گے حالات؟

    کانگریس کا حالیہ منظر نامہ ماضی سے تھوڑا مختلف اور بہتر نظر آتا ہے اور زمین پر کام کرنے والے کانگریسی اراکین بھی یہی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حکمت عملی اور اہم سیاسی اقدامات سے ملک اور بالخصوص اتر پردیش کی تصویر  ضرور تبدیل ہوگی۔

    کانگریس کا حالیہ منظر نامہ ماضی سے تھوڑا مختلف اور بہتر نظر آتا ہے اور زمین پر کام کرنے والے کانگریسی اراکین بھی یہی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حکمت عملی اور اہم سیاسی اقدامات سے ملک اور بالخصوص اتر پردیش کی تصویر ضرور تبدیل ہوگی۔

    کانگریس کا حالیہ منظر نامہ ماضی سے تھوڑا مختلف اور بہتر نظر آتا ہے اور زمین پر کام کرنے والے کانگریسی اراکین بھی یہی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حکمت عملی اور اہم سیاسی اقدامات سے ملک اور بالخصوص اتر پردیش کی تصویر ضرور تبدیل ہوگی۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اتر پردیش میں کانگریس کی جو حالت رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اسباب بہت سے ہیں جن کی بنا پر پارٹی کی تباہی کا ذمہ دار اعلیٰ قیادت کے ساتھ ساتھ کئی اہم چہروں اور مسند نشینوں کو ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ جس انداز سے کانگریس کی عوامی مقبولیت اور شہرت میں کمی واقع ہوئی تھی وہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت و اعلیٰ کمان کوسنجیدہ غور و خوص اور اہم اقدامات کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ کانگریس کا حالیہ منظر نامہ ماضی سے تھوڑا مختلف اور بہتر نظر آتا ہے اور زمین پر کام کرنے والے کانگریسی اراکین بھی یہی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حکمت عملی اور اہم سیاسی اقدامات سے ملک اور بالخصوص اتر پردیش کی تصویر ضرور تبدیل ہوگی۔

    مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع میں عملی طور پر کام کرنے اور عوامی تحریکیں چلاکر کانگریس کی سابقہ شبیہہ کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ڈاکٹر احمد مرتضیٰ کہتے ہیں کہ صرف پارٹی کی امیج ہی بحال نہیں ہوگی بلکہ اس بار اتر پردیش کا اقتدار بھی کانگریس کے اختیار میں ہوگا۔ احمد مرتضیٰ کے مطابق کانگریس نے ہمیشہ مثبت اور تعمیری سیاست میں یقین رکھا ہے اور عوامی بہبود کے لئے جمہور و دستور کی روشنی میں ملک کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا ہے۔ “اس بار راہل جی اور پرینکا جی نے پارٹی کو جس انداز سے منظم کیا ہے اور اراکین میں جو جوش و خروش بھرا ہے اور اس کی بنیاد پر لوگ ملک کو تباہی سے بچانے کا عزم کر چکے ہیں، صاف اشارے مل رہے ہیں کہ کانگریس اتر پردیش میں وقار و اقتدار حاصل کرکے جنتا کو مہنگائی، تعصب، فرقہ پرستی، بے روزگاری اور غربت و بدحالی سے نجات دلائے گی۔

    ڈاکٹر احمد مرتضیٰ کے دعوے اور دلیلیں کس حد تک صحیح یا غلط ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتر پردیش کے اقتدار کی ڈگر اتنی آسان بھی نہیں جتنی کانگریس کے اراکین کو نظر آتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے مطابق اقتدار پر ایک بار پھر سماج وادیوں کا قبضہ ہوگا۔ عوام بی جے پی کو ہرانے اور انہیں چارسو سیٹیں دلوانے کے لئے آئندہ اسمبلی انتخابات کا بے صبری سے انتظار کررہی ہے، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کے مطابق اس بار بی ایس پی اپنے بل پر حکومت بنائے کیونکہ اب لوگوں کو احساس ہوچکا ہے کہ دبے کچلے عوام کو ظلم و تشدد اور غربت و بدحالی سے نجات صرف ان کی پارٹی ہی دلا سکتی ہے۔ ان دعویداریوں کے درمیان اویسی کی اتحا د المسلمین اور ان چھوٹی جماعتوں کے رول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو بھلے ہی کوئی نشست حاصل نہ کرسکیں لیکن ایک مخصوص ووٹ بينک کی تقسیم کو یقینی بناکر سیاسی توازن بگاڑنے کی اہل ضرور ہیں ۔

    اس رسّہ کشی دعویداری اور جنگ کے درمیان کون سی سیاسی جماعت کب کس کے ساتھ مفاہمت کرلے یہ بھی طے نہیں ، کانگریس کے سریندر راجپوت کہتے ہیں کہ جنگ بی جے پی اور کانگریس کے مابین ہے اور کانگریس کی واپسی اس لئے بھی یقینی نظر آتی ہے کہ بی جے پی ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہے۔ کسانوں کے ساتھ نا انصافی، بے روزگاری ، آئین و قانون کی بدحالی ، جرائم کا آسمان چھوتا گراف، اقلیتوں پر کھلے مظالم اور استحصال یہ سب اسباب بی جے پی کے زوال کی بنیاد بن چکے ہیں۔ احمد مرتضیٰ اور سر نیند راجپوت کے جذباتی اور تجزیاتی بیانات اپنی جگہ ، تمام سیاسی جماعتوں کی دعویداریاں اور اقدامات کی معنویت بھی اہم ہے لیکن بر سر اقتدار بی جے پی ہر محاذ ہر میدان اور ہر بلاک پر جس طرح سیاسی حکمت عملی وضع کر رہی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نشہ اتر نہ جائے کہیں اقتدار کاکمزور مت سمجھئے سیاسی حریف کو۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: