உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش میں نیم جاں کانگریس کو زندہ کر سکیں گے عمران؟ کانگریس اقلیت اورسیاست

    کانگریس اقلیتی شعبے کی  مہداری سنبھالنے کے بعد  پہلی بار لکھنئو آمد پر جس انداز سے پارٹی اراکین اور ان کے  شیدائیوں نے اپنے محبوب شاعر و اقلیت کے نمائندہ لیڈرعمران   پرتاپ گڑھی کا استقبال کیا وہ واقعی قابل دید تھا۔

    کانگریس اقلیتی شعبے کی مہداری سنبھالنے کے بعد پہلی بار لکھنئو آمد پر جس انداز سے پارٹی اراکین اور ان کے شیدائیوں نے اپنے محبوب شاعر و اقلیت کے نمائندہ لیڈرعمران پرتاپ گڑھی کا استقبال کیا وہ واقعی قابل دید تھا۔

    کانگریس اقلیتی شعبے کی مہداری سنبھالنے کے بعد پہلی بار لکھنئو آمد پر جس انداز سے پارٹی اراکین اور ان کے شیدائیوں نے اپنے محبوب شاعر و اقلیت کے نمائندہ لیڈرعمران پرتاپ گڑھی کا استقبال کیا وہ واقعی قابل دید تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    کامیاب شاعر کی حیثیت سے پورے ملک اور دنیا میں ممتاز شناخت قائم کرنے اور کامیاب سیاست داں کی حیثیت سے کامگریس  کے اقلیتی شعبے کے ذمہداری سنبھالنے والےنوجوان لیڈر  عمران پرتاپ گڑھی کے تعلق سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں اور اہم پہلو یہ ہے کہ سوال اٹھانے اور جواب دینے والے لوگوں میں ہر شعبے اور ہر مزاج کے لوگ شامل ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ عمران پرتاپ گڑھی کے کاندھوں پر ایک بڑی ذمہداری اور سامنے ایک بڑا  چیلنج ہے لیکن اس نوجوان اور مقبول شاعر نے جس انداز سے ابھی تک اپنا سفر طے کیا ہے اس سے وہ خود بھی پر عزم ہیں اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی ان پر مکمل اعتماد و یقین ظاہر کیا ہے۔۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اقلیتیں کیا سوچ رہی ہیں اور با لخصوص اتر پردیش کی سب سے بڑی اقلیت  کا آنے والے الیکشن کے پیش نظر کانگریس کے تعلق سے مطلعِ نظر کیا ہے ۔بات اگر اتر پردیش کے تناظر میں کریں تو یہاں اقلیتی ووٹ بنک کے بڑے دعویدار اکھلیش یادو اور مایاوتی پہلے سے ہی موجود ہیں اور پھر اسد الدین اویسی کی سیاسی حکمت عملی نے بھی یہ اشارے دے دئے ہیں  کہ اس بار کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اقتدار کا حصول آسان نہیں ،  وہ بھلے ہی بڑی کامیابی نہ حاصل کر سکیں لیکن اگر اقلیتی ووٹ بنک تقسیم ہوا تو کئ جماعتوں کے منصوبے اور خاکے بے رنگ ضرور کر سکتے  ہیں ۔

    کانگریس اقلیتی شعبے کی  مہداری سنبھالنے کے بعد  پہلی بار لکھنئو آمد پر جس انداز سے پارٹی اراکین اور ان کے  شیدائیوں نے اپنے محبوب شاعر و اقلیت کے نمائندہ لیڈرعمران   پرتاپ گڑھی کا استقبال کیا وہ واقعی قابل دید تھا۔ لکھنئو میں ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے واضح طور پر کہا کہ آنے والا وقت کانگریس کا ہے یعنی سماج کے ان دبے کچلے اور مجبور و بے بس انسانوں ، نوجوانوں اور کسانوں کا ہے جن کا موجودہ اقتدار میں استحصال ہوا ہے۔ عمران کہتے ہیں کہ موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی عوام مخالف پالیسیوں اور ظلم و زیادتیوں نے لوگوں کو احساس کرادیا ہے کہ ملک کی ترقی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے کانگریس  کتنی ضروری ہے ۔بات چاہے دلتوں کی ہو یا دیگر پسماندہ ذاتوں اور طبقے کے لوگوں کی ، ہر مذہب ہر طبقے کے لوگوں کو یہ احساس ہو چکاہے کہ اگر اس بار بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہ کیا گیا تو سولھی روٹی اور لنگوٹی تک نہیں بچے گی۔

    اتر پردیش میں مقیم سب سے بڑی اقلیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ راہل جی اور پرینکا جی کی سیاسی اپروچ اور حکمت عملی یہی ہے کہ کانگریس سبھی اقلیتوں کے آئینی ، دستوری۔ جمہوری سماجی  مذہبی اور تمام طرح کے حقوق کی بازیابی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اس میں دورائے نہیں کہ موجودہ اقتدار میں سب سے بڑی اقلیت کو مختلف محاذوں پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہےلہٰذا ہماری کوشش یہی رہے گی کے لوگوں کو امن و سکون سے پُر خوشحال زندگی کی طرف واپس لایا جائے۔

    بی جے پی نے جو تباہی اور بربادی کی ہے اسے صحیح کرنا مشکل ضرور ہوگا  لیکن ہم انسانی  و عوامی خدمات کے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے  کہ جو تعاون ہمیں عوامی سطح پر مل رہا ہے اس سے یہ یقین ہے کہ کانگریس اتر پردیش میں اپنا کھویا ہوا اقتدار بھی حاصل کرے گی اور وقار بھی بحال کرے گی، کیونکہ عوام کو یقین ہوگیا ہے کہ  کانگریس کے علاوہ دوسری کوئی جماعت ملک میں ایسی نہیں جو انہیں موجودہ جابرانہ نظام سے آزادی دلاسکے۔عمران مانتے ہیں کہ ہمارے سامنے بڑے چیلنجر ہیں بڑے سیاسی حریف ہیں لیکن ہمیں خدا پر اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت و اراکین پر بھروسہ ہے کہ ہم سب کو شکست دیں گے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں صرف اقلیتیں ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر طبقے اور شعبے کے لوگ حسرت وامید سے کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔۔مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقے کے لوگ  اور سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ بلا شبہہ اقلیتی طبقے کے لوگ بی جے پی کے مظالم کا شکار ہوئے ہیں اور وہ عمران پرتاپ گڑھی جیسے نوجوانوں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والے وقت میں اقلیت کا رجحان کس طرف زیادہ ہوگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: