உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا معروف شاعر اسرار الحق مجازکے نام سے منسوب کیا جائے گا ردولی کا فلائی اوور...

    اہم اور عظیم لوگوں کی یادگاریں اور نشانات قائم کرنا ہماری تہذیب و تاریخ کا روشن باب رہا ہے

    اہم اور عظیم لوگوں کی یادگاریں اور نشانات قائم کرنا ہماری تہذیب و تاریخ کا روشن باب رہا ہے

    اہم اور عظیم لوگوں کی یادگاریں اور نشانات قائم کرنا ہماری تہذیب و تاریخ کا روشن باب رہا ہے

    • Share this:
    ضلع ایودھیا کے قصبے ردولی کوصوفیوں سنتوں ادیبوں اور شاعروں کی سرزمین کہا جاتا ہے ایک ایسی سرزمین جواہل دل کا پسندیدہ مسکن اور اہل نظر کا روشن گہوارہ رہی ہے ،اس کی آغوش میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے کتنے ہی عظیم لوگ تربیت پا چکے ہیں ۔ پوری دنیا میں تعلیمِ تصوف کا اہم مرکز تصور کی جانے والی درگاہ شاہ مخدوم احمد عبد الحق یہیں موجود ہے۔ یہیں شیخ صفی الدین صفوی بھی ابدی نیند سو رہے ہیں ، معروف سیاست داں اور قلم کار مجاز کے چھوٹےبھائی انصار ہروانی بھی اسی خاک و خمیر سے اٹھے اور معروف شاعر و صحافی میثم تمار پروانہ ردولوی کاتعلق بھی اسی مبارک و مقدس سرزمین سے رہا یہ سب جانتے ہیں کہ علی لگڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ لکھنے والے مشہور و معروف ترقی پسند شاعر مجاز کی جائے پیدائش بھی یہی سرزمین ہے ۔ معروف قلم کار اور سماجی کارکن شبینہ کلب کے سکرٹری رفعت عزمی کہتے ہیں کہ یہ امر افسوس ناک ہے کہ ردولی میں اہم قلم کاروں شاعروں کے نام سے وہ یادگاریں قائم نہ کی جاسکیں جس کے وہ مستحق تھے اب اپنے محبوب شاعر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اہل ردولی نے یہاں بھلسر ردولی روڈ پر زیر تعمیر فلائی اوور کو معروف شاعر اسرار الحق مجاز کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ردولی کی کئی ادبی ،سماجی و سیاسی تنظیموں نے حکومت سے یہ درخواست کی ہے کہ عنقریب مکمل ہونے والے فلائی اور کو مجاز کے نام سے منسوب کیا جانا چاہئیے۔تاکہ ایک عظم شاعر کی یاد گار قائم ہو سکے واضح رہے کہ زیر تعمیر اس اوور برج کا سنگ بنیاد 14 اکتوبر ۲۰۱۷ کو رکھا گیا تھا اور اسے ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۹ میں مکمل ہونا تھا لیکن متعین کی گئی مدت میں اس فلائی اوور کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے تیئیس کروڑ روپئے صرف ہونے تھے لیکن تاخیر کے سبب اس پر اب تک پینتیس کروڑ روپئے سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ اب امید کی جارہی ہے کہ آئندہ ماہ کے آخر تک یہ فلائی اوور لوگوں کی آمد و رفت کے لیے تیار ہوجائے گا۔ معروف شاعر کاوش ردولوی ، شاہد صدیقی اور سماجی کارکن گریش تیواری سمیت ردولی کی کئی اہم ادبی انجمنوں اور تنظیموں کے سربراہوں اور اراکین نے نگر پالیکا پریشد کے توسط سے ضلع انتظامیہ پر ایک بار پھر دباو بنایا ہے کہ اس پُل کو مجاز کے نام سے منسوب کردیا جائے جس سے مجاز ردولوی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔

    اس سلسلے میں شبینہ کلب کے سکرٹری اور معروف دانشور رفعت عزمی نے میونسپل بورڈ کے توسط سے کئی درخواستیں ضلع انتظامیہ ، متعلقہ افسروں اور وزیر اعلیٰ تک پہنچانے کی کوششیں کی ہیں جن کے مثبت رجحان بھی سامنے آئے ہیں۔ ادباء شعراء اور سماجی کارکنان مستقل آوازیں بلند کررہے ہیں تحریک چلا رہے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں اس تحریک سے منسلک لوگوں کو یہ احساس بھی ہے کہ نگر پالیکا پریشد کی جانب سے اپنے طور پر ایسی کوئی خصوصی پیش رفت نہیں کی گئی جو اس تحریک کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنا سکے ردولی کے کچھ لوگ مانتے ہیں کہ چئر پرسن جبار علی کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے اور حکومت بی جے پی کی ہے لہٰذا وہ نفسیاتی طور پر دباو میں ہیں اور اس باب میں ایسے خصوصی اقدامات نہیں کر پارہے ہیں جو عوامی مطالبے کو تقویت دے سکیں تاہم انہوں نے لوگوں کی عرض داشت کو آگے بڑھانے کا کام تو کیا ہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مجاز کا ایک سو دسواں یوم پیدائش آئندہ ۱۹ اکتوبر کو منایا جائے گا۔

    اہل ردولی چاہتے ہیں کہ اس مبارک موقع پر حکومت کی جانب سے اس پُل کو مجاز سے منسوب کرنے کا اعلان کردیا جائے تو بہتر ہے اس سلسلے میں کچھ لوگوں نے ایک بار پھر ردولی نگر پالیکا پریشد کے چئرمین جبار علی کو عرضداشت پیش کردی ہے۔ معلومات کے مطابق اس عرضی کو جبار علی نے ضلع مجسٹریٹ کو بھیج دیا ہے۔ اور اس باب میں تحقیقی کمیٹی نے کچھ لوگوں سے اسرار الحق مجاز کے تعلق سے معلومات فراہم بھی کی ہیں ردولی کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر ذمہدار افسران نے ان کی درخواست پرسنجیدگی سے عمل درامد کرانے کی کوشش کی تو یہ فلائی اوور مجاز کے نام سے منسوب کرکے انہیں بہترین خراج عقیدت پیش کیا جا سکے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس عظیم شاعر کے نام سے ردولی میں لائبریری ، کالج اور ایڈیٹوریم جیسی یادگاری عمارات تعمیر کرائی جاتیں لیکن موجودہ عہد میں اگر یہ زیر تعمیر پل بھی مجاز کے نام سے منسوب کردیا جائے تو ادب کے مسافروں اور مجاز سے عقیدت و محبت کرنے والوں کو کچھ سکون تو مل ہی جائے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: