ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لداخ میں چین سے نمٹنے کی ہندستان کی تیاری پوری، جدید بیڈ، ہیٹر والے گھر کئے گئے تیار

فوج کے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ہندستانی فوج کی تیاریاں صاف دکھائی پڑ رہی ہیں۔ اس میں فوجیوں کے لئے بستروں، الماریوں اور ہیٹروں کی سہولت ہے۔ کئی کمروں میں سنگل بیڈ ہیں، وہیں ایک رہائشی کمرے میں بنک بیڈ کا بھی نظم کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مورچے پر موجود فوجیوں کی تعیناتی کے حساب سے ان کے لئے گرم ٹینٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔

  • Share this:
لداخ میں چین سے نمٹنے کی ہندستان کی تیاری پوری، جدید بیڈ، ہیٹر والے گھر کئے گئے تیار
(Photo Credit- ANI Video grab)

نئی دہلی۔ سردیوں میں لداخ سیکٹر (Ladakh Sector) کے درجہ حرارت میں ہو رہی بھاری گراوٹ اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی حل نہ نکل پانے کے درمیان ہندستانی فوج (Indian Army) نے چین کی پیپلس لبریشن آرمی (Peoples Liberation Army) کی کسی بھی حرکت سے نمٹنے کے لئے آگے کے علاقوں میں ہزاروں فوجیوں کے رہنے کے لئے جدید گھر تیار کر لئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ ہندستانی فوج کی موجودگی والی کچھ جگہوں پر سردیوں میں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ اونچائی والے علاقوں میں سردیوں کے دوران 30 سے 40 فٹ تک برف پڑنے کا بھی امکان ہے۔


فوج کے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ہندستانی فوج کی تیاریاں صاف دکھائی پڑ رہی ہیں۔ اس میں فوجیوں کے لئے بستروں، الماریوں اور ہیٹروں کی سہولت ہے۔ کئی کمروں میں سنگل بیڈ ہیں، وہیں ایک رہائشی کمرے میں بنک بیڈ کا بھی نظم کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مورچے پر موجود فوجیوں کی تعیناتی کے حساب سے ان کے لئے گرم ٹینٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔



نیوز 18 نے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ ہندستانی فوج سردی کے موسم کے پیش نظر روس سے ٹینٹ خرید رہی ہے۔ ذرائع نے جانکاری دی ہے کہ کانپور کی آرڈیننس فیکٹری سے اس طرح کے ٹینٹ خریدنے کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔ چین نے پینگونگ کے پاس اور ایل اے سی پر کچھ جگہوں پر مستقل ڈھانچوں کی تعمیر کی ہے۔ حکام نے جانکاری دی ہے کہ لاک ڈاون کے پیش نظر کچھ ٹھیکیدار جو ہندستانی فوج کی فوجیوں کی رہائش کے لئے ڈھانچوں کی تعمیر میں مدد کر سکتے تھے وہ دستیاب نہیں تھے۔ ایسے میں روسی ٹینٹ جو سائبیریا جیسی ٹھنڈ کا سامنا کر سکتا ہے، وہ سب سے تیز اور سب سے موثر متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 18, 2020 05:31 PM IST