ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا وائرس ویکسین کو لیکر مسلمانوں کیلئے کیا ہے علماء کا مشورہ؟

دنیا بھر میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سور کا گوشت کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور مسلمانوں میں ویکسین لینے کے بارے میں ایک بحث شروع ہوگئی۔ تاہم ، کچھ مسلم اسکالرز نے مشاہدہ کیا ہے کہ قرآن میں 'حرام' اشیاء کے استعمال سے کسی شخص کی جان بچانے کی اجازت دی گئی ہے۔

  • Share this:

دنیا میں جب بھی وبائیں اور دیگر مختلف امراض کا انسانوں کو سامنا کرنا پڑا ۔ تب ماہرین امراض اور ریسرچ کرنے والوں نے انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے زمین آسمان ایک کردی۔ چاہے وہ خصرہ ہو یا ٹی بی یا پولیو۔۔ ایسی اور بھی کئی بیماریوں سے حفاظت کے لئے دنیا کے ماہر اطبا نے ویکسین یا دیگر شکلوں میں دوائیں ایجاد کیں۔ اب جب کے ساری دنیا کورونا جیسی ہلاکت خیز وباء سے جوجھ رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کی ویکسین بنانے والی کمپنیاں اور ماہرین  ویکسین بنانے میں کامیاب ہوئے اور کافی تجربے بھی کرچکے ہیں اور ساری دنیا نے ویکسین تیار ہونے پر راحت کی سانس لی اور کئی ممالک اس ویکسین کا استعمال انسانی زندگی کے بچاؤ کے لئے کررہے ہیں۔ جس میں عرب ممالک بھی شامل ہے۔


یو اے ای کے فتوی کونسل نے ان اندیشوں اور حلال و حرام کی بحث پر روک لگاتے ہوئے فتوی تک جاری کردیا کہ کورونا وائرس ویکسین حلال اور جائز ہے ۔ ہندوسان میں بھی ویکسین کا بے صبری سے انتظار ہے اور مسلم ڈاکٹرس کی بھی اس پر گہری نظر ہے لیکن مسلم علمائے اکرام مسلمانوں کو ویکسین کے حرام و حلال مسئلے میں الجھائے ہوئے ہیں ۔ بے شک اسلام میں حرام وحلال کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور یہ اچھی بات بھی ہے لیکن جب انسانی جان بچانی ہو اور دوا میں حرام اجزا ء کا استعمال بھی کیا گیا ہو اس کے لئے شرعی طور پر اسلام میں کیا حکم ہے یا پھر انسانی جانوں کو بچانے کے لئے دوسرا کیا راستہ ہے۔


اترپردیش کے ایک مسلم رہنما ، مولانا خالد راشد فرنگی محالی نے اپنی برادری کے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود بھی ایک افواہ کا حصہ بننے کی بجائے یہ ویکسین لیں۔


دنیا بھر میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سور کا گوشت کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور مسلمانوں میں ویکسین لینے کے بارے میں ایک بحث شروع ہوگئی۔ تاہم ، کچھ مسلم اسکالرز نے مشاہدہ کیا ہے کہ قرآن میں 'حرام' اشیاء کے استعمال سے کسی شخص کی جان بچانے کی اجازت دی گئی ہے۔

 
Published by: sana Naeem
First published: Dec 26, 2020 08:03 AM IST