ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رویتِ ہلال کی روشنی میں یکم اگست کو عید الاضحیٰ کے اعلان کے ساتھ پھر سیاست و شریعت کے درمیان چھڑی جنگ

فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالم مولانا سیف عباس کہتے ہیں کہمسلم عوام الناس اگر کسی پریشانی کے سبب قربانی نہیں کر رہے ہیں تو اس کے عوض میں پیسہ دینا مناسب نہیں۔ قربانی کا نعم البدل پیسہ نہیں۔ ۔ عید منائیں اور اس طرح منائیں کہ خدا بھی خوش ہو اور ہمارے ساتھ رہنے والے سبھی مذاہب کے لوگ بھی ان خوشیوں میں شریک ہوں۔

  • Share this:
رویتِ ہلال کی روشنی میں یکم اگست کو عید الاضحیٰ کے اعلان کے ساتھ پھر سیاست و شریعت کے درمیان چھڑی جنگ
رویتِ ہلال کی روشنی میں عید الاضحیٰ یکم اگست کو ہوگی۔

لکھنئو۔ رویتِ ہلال کی روشنی میں عید الاضحیٰ یعنی عیدِ قرباں کا اعلان کردیا گیا ہے یکم اگست کو عید الاضحیٰ منائی جائے گی ۔اس اعلان کے ساتھ ہی ایک بار پھر سیاست و شریعت کے مابین روایتی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ دور کورونا کا ہے، سماجی و مذہبی نفرتیں بھی عروج پر ہیں ایسے میں قربانی کے معاملات کچھ زیادہ ہی سنگین نظر آرہے ہیں۔ حکومت کی جانب سےایڈوائزری جاری کئے جانے کے بعد لوگوں نے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ارباب سیاست نے قربانی نہ کرنے کے سلسلے میں اپنے سیاسی آقاؤں کی تسکین کے لئے وہی سب کچھ کہنا شروع کردیا ہے جو ان کی منصبی مجبوری ہے۔

حکومت اتر پردیش کے وزیر برائے اقلیتی امورمحسن رضا کہتے ہیں کہ کوروناکے سبب لوگ گھروں میں رہ کر ہی عید الاضحیٰ منائیں، عبادت کریں اور قربانی پر خرچ کئے جانے والا پیسہ انسانی خدمات میں لگادیں۔ معروف عالم دین مفتی شہر مولانا ابو العرفان فرنگی محلی کہتے ہیں کہ سیاسی لوگ اپنی کرسیاں بچانے اور اپنے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لئے بیان دیتے ہیں۔ حقیقی خدا اور شریعت کو ماننے والے لوگ کبھی اس طرح کی بات نہیں کریں گے۔


مفتی صاحب کہتے ہیں کہ شریعت و قرآن کا حکم سب سے افضل اور قابل تقلید ہے قربانی ضرور کی جانی چاہئے۔ اس کے عوض یا بدلے میں پیسہ نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کورونا کی احتیاطوں کے ساتھ قربانی کریں، ممنوعہ جانوروں کی قربانی بالکل نہ کریں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو یا وبا پھیلنے اور بڑھنے کے خطرے پیدا ہوں۔


فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالم مولانا سیف عباس کہتے ہیں کہ قربانی کرنے کے تاکید کی گئی ہے اور بہت تاکید کی گئی ہے فقہہ جعفریہ کے مطابق یہ احکامات ہیں کہ وہ حاجی جو حج کر رہا ہے، بغیر قربانی کئے اس کا حج مکمل نہیں بصورت دیگرمومنین کوقربانی کرنے کی تاکید ہے واجب نہیں۔ مسلم عوام الناس اگر کسی پریشانی کے سبب قربانی نہیں کر رہے ہیں تو اس کے عوض میں پیسہ دینا مناسب نہیں۔ قربانی کا نعم البدل پیسہ نہیں۔ اگر وہ قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو قربانی ہی کرنا چاہئے۔کورونا کے اس دور میں مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

اربابِ سیاست کا اپنا نظریہ اور مجبوریاں ہیں۔ شریعت و فقہ کے اپنے مسائل ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ ہر مسلمان چاہتا ہے یہ سبھی مانتے ہیں  کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ ایسے طریقہ کار نہ اپنائے جائیں جن سے وبا پھیلنے کے اندیشے بڑھیں یا برادران وطن کے جذبات مجروح ہوں۔ عید منائیں اور اس طرح منائیں کہ خدا بھی خوش ہو اور ہمارے ساتھ رہنے والے سبھی مذاہب کے لوگ بھی ان خوشیوں میں شریک ہوں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 23, 2020 01:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading