ہوم » نیوز » No Category

اتر پردیش میں خواتین کو گھوڑنے اور بغیر مرضی رابطہ کرنے پر اب جانا ہوگا جیل

سنبھل: اتر پردیش میں کسی لڑکی یا عورت کو فحش نظر سے گھورنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ایسا کیا تو سات سال تک کے لئے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 22, 2015 04:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اتر پردیش میں خواتین کو گھوڑنے  اور بغیر مرضی رابطہ کرنے پر اب  جانا ہوگا جیل
سنبھل: اتر پردیش میں کسی لڑکی یا عورت کو فحش نظر سے گھورنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ایسا کیا تو سات سال تک کے لئے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

سنبھل: اتر پردیش میں کسی لڑکی یا عورت کو فحش نظر سے گھورنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ایسا کیا تو سات سال تک کے لئے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔


سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ کسی ذاتی کام میں لگی خواتین یا لڑکی کو مسلسل دیکھنا، فحش نظر سے گھورنا، فوٹو کھینچنا اوراسے نشر کرنا قابل سزا جرم ہے۔پہلی بار قصوروار ثابت ہونے پر کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ تین برس کی قید اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔


دوسری بار یا اس سے زیادہ مرتبہ اسی جرم کا قصواروار ثابت ہونے پر تین سے سات برسوں تک کی سزا ہو گی۔ پولیس اب اسکول اور عوامی مقامات پر اس سے متعلق اشتہار بھی لگائے گی۔


ذرائع نے بتایا کہ عورت یا لڑکی کی مرضی کے بغیر اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنا، اس کا پیچھا کرنا، انٹرنیٹ یا ای میل یا کسی بھی دوسرے قسم کے الیکٹرانک وسائل کا استعمال کیا تو تین سے پانچ برسوں تک کی سزا ہو سکتی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ لڑکی یا عورت پر جان بوجھ کر تیزاب پھینک کر زخمی کرنا یا تیزاب پھینکنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ قصوروار ثابت ہونے پر پانچ سے لے کر عمرقید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔


ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون یا لڑکی پولیس تھانے میں، اسپتال یا طبی مرکزیا پھر پناہ گاہ پرپروٹیکشن آفیسر یا رضاکار تنظیم میں شکایت کر سکتی ہے۔ اس کے لئے پولیس خاتون احترام سیل (وومین ریسپیکٹ سیل) کا قائم کیاجا چکا ہے۔ خواتین و لڑکیوں کو بیدار کیا جائے گا۔ اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

First published: Nov 22, 2015 04:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading