ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سعو دی کلچرل ہاؤس کے اشتراک سے عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر پروگرام کا انعقاد

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ عربی نے عربی زبان کے عالمی دن پر سعودی کلچرل ہاؤس کے اشتراک سے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 23, 2016 01:05 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سعو دی کلچرل ہاؤس کے اشتراک سے عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر پروگرام کا انعقاد
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ عربی نے عربی زبان کے عالمی دن پر سعودی کلچرل ہاؤس کے اشتراک سے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ عربی نے عربی زبان کے عالمی دن پر سعودی کلچرل ہاؤس کے اشتراک سے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔پروگرام کا آغاز شعبہ عربی کے طالب علم محمد سراج الدین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، صدارت کے فرائض پروفیسر محمداسد الدین ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجزنے انجام دئے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے شرکت کی ۔ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر محمد ایوب ندوی نے کہاکہ عربی زبان ہمارے دین اور عقیدے کی زبان ہے اور اسی حیثیت وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو باہمی محبت، سلامتی اور اخوت کے رشتہ سے مربوط کرتی ہے ، اس لئے ہم پروگرام میں تشریف فرما مختلف عرب سفارتکاروں کا استقبال کرتے ہیں ،نیز جامعہ کا تعارف کراتے ہوئے انھوں نے جامعہ کی تاریخ ،عربی زبان سے اس کے دیرینہ تعلق ، اور عربی تہذیب و ثقافت کی ترویج و اشاعت میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔

پروفیسر ثنا اللہ ندوی نے جدید دور میںعربی زبان،چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبان انسانی فکر کی ترجمان ہوتی ہے، عربی زبان نے علوم و معرفت کے خزانوں کی حفاظت اور اس کی ترویج و اشاعت کے میدان میں جو عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے اس کے شاہد بغداد ، قاہرۃ، دمشق، قرطبہ، اشبیلہ ، قیروان،تلمسان، اصبہان، لاہوراور دہلی جیسے عالم اسلام کے وہ عظیم الشان شہر رہے ہیں جنھیں مختلف زمانوں میںعلم و حکمت کا سرپرست کہا جاتا رہا ہے۔ عربی زبان نے ایک دور میں فلسفہ ، ریاضیات ، سائنس ، سماجیات اور سیاسیات جیسے بے شمار علوم کی اپنی گود میں پرورش کی ہے، ماضی کا یہ شاندار دور عربی زبان کے حاملین کا بھی عروج کا دور تھا لیکن پھر ان پر زوال آیا تو عربی زبان بھی کمزور ہوئی ، اور آج عربی زبان بے شمار چیلنجوں سے دوچار ہے جن میں سب سے بڑا چیلنج استعماری قوتوں کی سازشیں بھی ہیں جو مستقل جاری ہیں۔

لکچر کے بعد سوال وجواب کا بھی سیشن ہوا ، جس میں مختلف سفارتکاروں اور اساتذہ نے اپنے سوالات کئے نیز اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد اسدالدین ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈلینگویجز نے کہا کہ عربی زبان چونکہ قرآن کی زبان ہے اس لئے اس سے ہمارا رشتہ دین و عقیدے کا رشتہ ہے ، اس کے علاوہ عربی زبان سے ہمارا ایک اور رشتہ ہے اور وہ علم و معرفت کی زبان ہونے کی حیثیت سے ہے کیونکہ یہ زبان اپنے پہلو میں ایک عظیم الشان تہذیبی و ثقافتی ورثہ بھی رکھتی ہے۔

ٓپروگرام کا اختتام پروفیسر حبیب اللہ خان کے کلمات تشکر سے ہوا ، جس میں انھون نے عربی زبان کے عالمی دن پر ہر سال ہونے والی تقریبات پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کے انعقاد میں شریک تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا بالخصوص سعودی کلچرل ہاؤس،نیز فلسطین ، تیونس ، الجزائر، مراکش،اور لیبیا کے سفارتکاروں کا شکریہ ادا کیا۔

پروگرام میں شعبہء عربی کے اساتذہ پروفیسرخالد علی حامدی، ، پروفیسر عبدالماجد قاضی ، ڈاکٹر نسیم اختر، ڈاکٹر فوزان احمد ،ڈاکٹر طلحہ فرحان ، ڈاکٹر محفوظ الرحمن،اودہلی یونیورسٹی کے اساتذہ ڈاکٹر قاسم عادل ، ڈاکٹر عبیداللہ ، ڈاکٹر جسیم الدین، نیزشعبہ عربی کے ریسرچ اسکالرس ، اور طلبہ نے شرکت کی ۔
First published: Dec 22, 2016 06:44 PM IST