ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عدم رواداری اور مذہبی تعصب کے خلاف دانشوروں کا اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم

نئی دہلی: کنڑ زبان کے مشہور قلمکار ایم ایم كلبرگي، اندھی عقیدت کے خلاف لڑنے والے نریندر دابھولكر اور گووند پنسارے کے قتل کے خلاف آج یہاں ملک بھر سے آنے والے دانشوروں اور مصنفین نے ملک میں عدم رواداری اور مذہبی تعصب کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا اور شہری معاشرے (سول سوسائٹی) سے اس احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی اپیل کی۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 01, 2015 08:45 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عدم رواداری اور مذہبی تعصب کے خلاف دانشوروں کا اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم
نئی دہلی: کنڑ زبان کے مشہور قلمکار ایم ایم كلبرگي، اندھی عقیدت کے خلاف لڑنے والے نریندر دابھولكر اور گووند پنسارے کے قتل کے خلاف آج یہاں ملک بھر سے آنے والے دانشوروں اور مصنفین نے ملک میں عدم رواداری اور مذہبی تعصب کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا اور شہری معاشرے (سول سوسائٹی) سے اس احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی اپیل کی۔

نئی دہلی: کنڑ زبان کے مشہور قلمکار ایم ایم كلبرگي، اندھی عقیدت کے خلاف لڑنے والے نریندر دابھولكر اور گووند پنسارے کے قتل کے خلاف آج یہاں ملک بھر سے آنے والے دانشوروں اور مصنفین نے ملک میں عدم رواداری اور مذہبی تعصب کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا اور شہری معاشرے (سول سوسائٹی) سے اس احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی اپیل کی۔


تقریبا 60 سے زیادہ مصنفین اور فنکاروں اور ادیبوں کی طرف سے اپنا ایوارڈ واپس کرنے اور پانچ سو سے زیادہ مصورین، سائنسدانوں، مؤرخوں اور سماجی مصلحین کی طرف سے دستخط شدہ بیان دینے کے بعد یہاں جمع ہونے والے ان دانشوروں نے ملک کی کثیر ثقافتی رواداری، وحدت،گونا گوں اختلافات کے درمیان ہم آہنگی کی روایات اور آئینی اقدار کو بچانے کے لئے ہم وطنوں سے آگے آنے کی بھی اپیل کی۔


ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس لوٹانے والی ہندی کی مشہور مصنفہ کرشنا سوبتي، مشہور مورخ رومیلا تھاپر، معروف تاریخ داں عرفان حبیب، اکیڈمی ایوارڈ اد لوٹانے والے شہرہ آفاق فنکار اشوک واجپئی، انگریزی کے مشہور شاعر كےكي این دارووالا، حقوق انسانی کے مشہور کارکن اور دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس راجندر سچر (ریٹائرڈ)، مشہور ر پینٹر ایم کے رینا، انگریزی مصنفہ گیتا هری هرن اور جن ستہ کے سابق ایڈیٹر اوم تھانوی سمیت متعدد دانشوروں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔


دانشوروں کی اس کانفرنس سے گووند پنسارے کی اہلیہ میگھا اویناش پنسارے نے بھی خطاب کیا اور نریندر دابھولكر کے بیٹے اور بیٹی کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گيا۔ مشهور اداکارہ شرمیلا ٹیگور کا بھی ایک ویڈیو پیغام دکھایا گیا جس میں انہوں نے ہندوستان کی تکثیری ثقافت، گوناگونی میں ہم آہنگی کی روایت او آئینی اقدار کو بچانے کی بات کہی اور ملک میں پیدا ہونے والے عدم رواداری کے حالات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ محترمہ شرمیلا ٹیگور نے رابندر ناتھ ٹیگور کی "جہاں چت بے خوف ہو" شعر کا بنگلہ اور انگریزی ترجمہ بھی کیا جس میں ٹیگور نے ملک میں عدم رواداری اور خوف کے ماحول کی مخالفت کی ہے۔

First published: Nov 01, 2015 08:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading