ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الوداع 2015 : کھیلوں میں تنازعات کے لئے بھی یاد کیا جائے گا سال

نئی دہلی: سال 2015 میں ملک نے ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے لے کر بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال اور وراٹ کی شاندار کپتانی سے لے کر ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ میں تمغے کامیابی تک بہت قال فخر لمحات کو دیکھا لیکن ان سب کے علاوہ سال 2015 مختلف کھیلوں میں کھڑے ہوئے بڑے تنازعات کے لئے بھی بحث میں رہا جس نے کھیل کے شائقین کو دکھ پہنچایا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 31, 2015 07:26 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
الوداع 2015 : کھیلوں میں تنازعات کے لئے بھی یاد کیا جائے گا سال
نئی دہلی: سال 2015 میں ملک نے ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے لے کر بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال اور وراٹ کی شاندار کپتانی سے لے کر ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ میں تمغے کامیابی تک بہت قال فخر لمحات کو دیکھا لیکن ان سب کے علاوہ سال 2015 مختلف کھیلوں میں کھڑے ہوئے بڑے تنازعات کے لئے بھی بحث میں رہا جس نے کھیل کے شائقین کو دکھ پہنچایا۔

نئی دہلی: سال 2015 میں ملک نے ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے لے کر بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال اور وراٹ کی شاندار کپتانی سے لے کر ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ میں تمغے کامیابی تک بہت قال فخر لمحات کو دیکھا لیکن ان سب کے علاوہ سال 2015 مختلف کھیلوں میں کھڑے ہوئے بڑے تنازعات کے لئے بھی بحث میں رہا جس نے کھیل کے شائقین کو دکھ پہنچایا۔


ثانیہ اور سائنا نے ملک کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نئی شناخت دلائی تو کئی ایسے تنازعہ بھی سامنے آئے جنہوں نے تمام حصولیابیوں کو بھٹكايا۔چاہے باكسنگ انڈیا کی معطلی کا مسئلہ ہو یا ہندستانی ہاکی کوچ پال وان ایس کو باہر کا راستہ دکھایا جانا، پیرالمپك کھلاڑیوں کے ساتھ خراب رویہ کے بعد پیرالمپك کمیٹی کی معطلی ہو یا پھر ویٹ لفٹنگ ڈوپنگ میں ملزم پائے جانے کا مسئلہ۔


کئی ایسے موقع آئے جب کھیل کے منتظمین سے لے کر کھلاڑیوں تک نے شرمسار بھی کیا اور تنازعہ بھی کھڑے کئے جنہیں بھلانا بہت مشکل ہوگا۔  باکسنگ انڈیا کی معطلی ۔ سال کے کئی بڑے تنازعات میں باکسنگ انڈیا (بی آئی ) کی معطلی اہم مسئلہ رہا جس نے ملک کے باکسر کے مستقبل کو مشکل میں ڈال دیا۔کھیلوں کی ایسوسی ایشنز میں چل رہے باہمی اختلافات کا یہ بھی ایک بڑا نمونہ تھا جس کی وجہ سے اس کے وجود کے صرف ایک سال کے اندر اندر ہی باکسنگ انڈیا کو معطل کر دیا گیا۔


باکسنگ کی ریاستی یونٹوں کی مخالفت کی وجہ سے بی آئی کے صدر سندیپ ججوديا اور سیکرٹری جے كووالي کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا اور بین الاقوامی باکسنگ ایسوسی ایشن (آئبا) نے بی آئی پر عارضی معطلی لگا دی اور نئے ادارے کے قیام کے ہدایات دی۔


ہندستانی ہاکی کوچ وان کا استعفی۔ ہاکی میں بھی ڈراما کچھ کم نہیں رہا اور میدان کے باہر کھڑے ہوئے تنازعات میں قومی کوچ پال وان ایس کو چھ ماہ کے اندر ہی اپنا عہدہ گنوانا پڑ گیا۔قومی کوچ کا جانا اس لئے بھی حیران کرنے والا ہے کہ ڈچ کوچ کی رہنمائی میں ٹیم کی کارکردگی قابل تعریف رہی۔ بیلجیم کےا ینٹورپ میں ہاکی ورلڈ لیگ سیمی فائنل کے بعد وان اور ہاکی انڈیا (ایچ آئی ) کے صدر نریندر بترا کے درمیان تنازعہ کھل کر سامنے آ گیا۔


خود وان نے بھی وطن واپس لوٹنے کے بعد میڈیا کو کہا کہ انہیں بترا سے تنازعہ کے چلتے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔اس پورے تنازعہ کے بعد سے اگلے سال ریو اولمپکس کی تیاریوں میں مصروف قومی ہاکی ٹیم کے پاس اب تک چیف کوچ نہیں ہے اور وہ ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر رولنٹ اولٹمنس کی رہنمائی میں ہی تیاریاں کر رہی ہے۔


ہاکی کے اس بڑے تنازعہ کے علاوہ مڈفیلڈر گرباج سنگھ کی معطلی بھی بحث میں رہی جنہیں ہاکی انڈیا نے ڈسپلن اور میدان پر کھیل روح کی پیروی نہیں کرنے کے لئے معطل کر دیا تھا۔ نو ماہ کی معطلی کے خلاف گرباج نے اپیل بھی کی جسے مسترد کر دیا گیا اور اس کے بعد کھلاڑی نے ہاکی انڈیا کو عدالت میں گھسیٹ لیا۔


تاہم ان پر اس معطلی کو عدالت نے ہٹا دیا لیکن اس پورے تنازعہ سے وہ ہاکی انڈیا لیگ (ایچ آئی ایل ) کی نیلامی میں حصہ نہیں لے سکے جبکہ قومی ٹیم میں بھی انہیں واپسی کا موقع نہیں ملا۔ ہندستانی فٹ بال ٹیم نے بھی پورے سال میدان پر مایوس کیا۔اگرچہ ہاکی انڈیا تنازعات میں گھرا رہا لیکن مرد اور خاتون ہاکی ٹیموں نے اپنی کارکردگی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ 


لیکن اس کے برعکس ہندستانی فٹ بال ٹیم نے پورے سال اپنی کارکردگی سے مایوس کیا اور اسٹیفن کونسٹن ٹائین کی رہنمائی میں قومی ٹیم نے پانچ بین الاقوامی میچ ہارے جس میں ایک چھوٹے سے ملک گوام سے ملی کراری شکست نے اسے سب سے زیادہ شرمسار کیا۔ٹیم کی یہ حالت تب ہے جب ملک میں انڈین سپر لیگ (ایس آئی ایل ) ایک نئے مقام پر پہنچ گیا ہے اور دیسی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔


سال کے آخر تک آتے آتے انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل ) کی کامیابی بھی تنازعہ کی وجہ سے خراب ہو گئی۔ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں چینین ایف سی اور ایف سی گوا کے درمیان میدان پر ہی بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا جس سے چنئی کے غیر ملکی کھلاڑی الانو بلومر کو جیل تک جانا پڑ گیا۔پولیس نے برازیل کے مڈفیلڈر الانو گوا کے شریک مالک کے ساتھ مار پیٹ کے الزام میں گرفتار کیا جس نے بین الاقوامی سطح پر اس لیگ کی شبیہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔


ڈھیروں تنازعات میں جس نے ملک کو شرمسار کیا اس میں ویٹ لفٹنگ ڈوپنگ میں مجرم پائے جانے کا مسئلہ بھی رہا۔اس سال سب سے زیادہ تعداد میں ویٹ لفٹر کے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے مجرم پائے جانے کی صورت سامنے آئے جس سے ریو اولمپکس میں ہندستان کے حصہ لینے پر ہی سوال کھڑا ہو گیا۔


ہندستانی ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن نے ڈوپ میں ناکام پائے جانے کے بعد 26 ویٹ لفٹرز کو عارضی طور پر معطل کر دیا جبکہ سال 2015 کے آخر تک آتے آتے دو خاتون کھلاڑیوں کو بھی بین الاقوامی مقابلے میں ممنوعہ منشیات کے استعمال کا مجرم قرار دیا گیا۔


اس کے علاوہ مشرقی ایشیا ئی کھیلوں کے چاندی کا تمغہ فاتح من پریت سنگھ بھی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام پائے جانے کے بعد ملٹری ورلڈ کھیل سے باہر ہو گئے۔من پریت جنوبی کوریا کے ميوگيوگ میں ملٹری ورلڈ گیمز میں حصہ لینے گئے تھے۔


کھیل میں خراب انتظامیہ کے معاملے بھی اس سال اس وقت خوب نظر میں آئے جب پیرالمپك کھلاڑیوں کے ساتھ خراب برتاؤ کی وجہ سے ہندستانی پیرالمپك کمیٹی (پی سی آئی ) کو ہی معطل کر دیا گیا۔پیرالمپك کمیٹی کو نہ صرف خراب انتظام کے لئے مرکزی وزارت کھیل نے بلکہ بین الاقوامی پیرالمپك کمیٹی نے بھی معطل کر دیا۔


دراصل غازی آباد میں 15 ویں قومی پیرا ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران پیرالمپك کھلاڑیوں کے رہنے،ٹھہرنے اور کھانے پینے اور ان کی ٹریننگ کے خراب نظام کے میڈیا میں شہ سرخیوں میں آنے کی وجہ سے یہ تنازعہ کھڑا ہوا۔


سال کے شروع میں کیرالہ کے ہندستانی کھیل اتھارٹی (سائئ) سینٹر میں چار خواتین ٹرینی کے اپنے کوچ کی طرف سے ڈانٹے جانے کی وجہ سے خود کشی کرنے کے واقعہ نے بھی کھیلوں میں خواتین کے ظلم و ستم کے مسئلے کو ہوا دی اور اس کی وجہ سے حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے قومی کھیل فیڈریشن کی منظوری کو منسوخ کر دیا۔


اس حادثے میں تین ٹرینی کو بچا لیا گیا لیکن ایک کی موت ہو گئی تھی۔ مختلف کھیلوں کے علاوہ کرکٹ بھی ہمیشہ کی طرح تنازعات میں رہا اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی سب سے کامیاب ٹیم اور دو بار کی فاتح چنئی سپرکنگس اور راجستھان رائلس کو ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ سے دو دو سال کی معطلی بھی جھیلنا پڑا اور یہ یقینی ہی کھیل میں کھڑے ہوئے تنازعات کے معاملے میں سب سے زیادہ بحث کا موضوع رہا۔

First published: Dec 31, 2015 07:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading