ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوگی حکومت نے پھر بدلا ایک تاریخی شہر کا نام، بستی کا نام بدل کر وشسٹھ نگر کرنے کا کیا فیصلہ

یوگی حکومت نے بستی ضلع کا نام بدل کر ’’مہارشی وشسٹھ نگر‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔شہروں کے نام بدلنے کے ان فیصلوں کو سادھو سنتوں کی طرف سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔

  • Share this:
یوگی حکومت نے پھر بدلا ایک تاریخی شہر کا نام، بستی کا نام بدل کر وشسٹھ نگر کرنے کا کیا فیصلہ
بستی کا نام بدل کر وشسٹھ نگر کرنے کا کیا فیصلہ

الہ آباد۔ یوپی میں ان دنوں مغلوں کے زمانے میں بسائے گئے شہروں کے نام تبدیل کرنے کی سیاست  زوروں پر چل رہی ہے۔مغل سرائے، فیض آباد اور الہ آباد کا نام تبدیل کرنے کے بعد یوگی حکومت نے اب بستی ضلع کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ یوگی حکومت نے بستی ضلع کا نام  بدل کر ’’مہارشی وشسٹھ  نگر‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔شہروں کے نام بدلنے کے ان فیصلوں کو سادھو سنتوں کی طرف سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔


وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار میں آتے ہی شہروں کے نام بدلنے کے منصوبے پر کام شروع ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے یوگی حکومت نے مغل سرائے کا تاریخی نام بدل کر دین دیال اپادھیائے نگر کر دیا تھا ۔ اس کے بعد الہ آباد کا  پریاگ راج  اور فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا کر دیا  گیا ۔ اب یوگی حکومت نے ریاست کے قدیم ضلع بستی کا نام بدل کر وشسٹھ نگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یو گی حکومت کے اس فیصلے کا  سادھو سنتوں کی طرف سے زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے ۔


وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار میں آتے ہی شہروں کے نام بدلنے کے منصوبے پر کام شروع ہو گیا تھا۔


اکھل بھارتیہ ڈنڈی سوامی پریشد کے سر براہ سوامی ہری چیتنیہ کا کہنا ہے کہ مغل دور میں بسائے گئے شہروں کے نام غلامی کی علامت ہیں لہٰذا ایسے تمام شہروں کے نام بدل دینے چاہئیں جو ملک کی قدیم  تہذیب سے میل نہیں کھاتے ہیں۔واضح رہے کہ سی ایم یوگی نے الہ آباد کا نام  بدل کر ’’پریاگ راج ‘‘ کرنے کا اعلان  ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۸ کو    کیا تھا  ۔یوگی حکومت کے اس  فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ چوں کہ الہ آباد کا نام بدلنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے الہ آباد کا ریلوے جنکشن کا  نام  فی الحال تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔یو پی میں جس طرح سے مسلم دور حکومت  میں بسائے گئے تاریخی شہروں کے نام بدلے  جا رہے ہیں، اس کو لیکر سماج کے باشعور طبقے میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

الہ آباد کا نام بدلنے کے خلاف مقدمے کے وکیل رہے ہائی کورٹ کے سینئر  ایڈوکیٹ سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ  یو پی کا ہر شہر اپنے نام کے ساتھ ساتھ اپنی مشترکہ روایت اور تاریخ  کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ شہروں کے نام بدل کر ان کی تاریخی پہچان کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ریاست کے بیشتر شہروں کو مسلم دور حکومت میں بسایا گیا اور ان کو ادبی اور تہذیبی اعتبار سے کافی ترقی دی گئی ۔ لیکن  یوگی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی ان شہروں کے نام بدلنے کا سلسلہ چل نکلا ہے ۔ مسلم دور کے شہروں کے نام بدلنے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر  ریاست کی مشترکہ تہذیب اور اس کی تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
First published: Feb 12, 2020 05:13 PM IST