உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش: لو جہاد کے خلاف قانون نافذ ہونے کے بعد میرج بیوروز پر پولیس کا کسا شکنجہ 

    اتر پردیش: لو جہاد کے خلاف قانون نافذ ہونے کے بعد میرج بیوروز پر پولیس کا کسا شکنجہ 

    اتر پردیش: لو جہاد کے خلاف قانون نافذ ہونے کے بعد میرج بیوروز پر پولیس کا کسا شکنجہ 

    یو پی میں لو جہاد کے خلاف قانون نافذ ہونے کے بعد شادی کرانے والے اداروں اور میرج بیوروز پر پولیس کا شکنجہ کسنے لگا ہے۔ یو پی پولیس اب ان اداروں اور ایجنسیوں پر کڑی نگاہ رکھ رہی ہے جو آن لائن رشتہ طے کرانے اور شادی میں سہولیات فراہم کرانے کی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    • Share this:
    الہ آباد۔ یو پی میں لو جہاد کے خلاف قانون نافذ ہونے کے بعد شادی کرانے والے اداروں اور میرج بیوروز پر پولیس کا شکنجہ کسنے لگا ہے۔ یو پی پولیس اب ان اداروں اور ایجنسیوں پر کڑی نگاہ رکھ رہی ہے جو آن لائن رشتہ طے کرانے اور شادی میں سہولیات فراہم کرانے کی اپنی خدمات انجام دے  رہے ہیں۔

    یو پی پولیس کی تازہ کار روائی میں الہ آباد کے سول لائنس علاقے میں واقع شادی کرانے والے ایک میرج بیورو ’’ میٹری منی ‘‘ کو پولیس محکمہ نے سیل کر دیا ہے۔ پولیس نے میرج بیورو میں استعمال ہونے والے تمام ڈیٹا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ پولیس اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ  میرج بیورو کے ذریعے بین المذاہب  کتنی شادیاں کرائی گئی ہیں۔ ساتھ ہی پولیس نے میرج بیورو میں کام کرنے والی پانچ خواتین کو پوچھ گچھ کے لئے اپنی حراست میں لیا ہے۔

    الہ آباد کے ایس ایس پی سروا سریشٹھ  ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ پولیس  کو ایسی شکایتیں موصول ہو رہی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ میٹری منی میرج بیورو میں شادی کے نام پر بڑے پیمانے پر جعل سازی کی جا رہی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جعل سازی کا یہ کاروبار گذشتہ دو برسوں سے جاری  تھا۔ میرج بیورو میں کام کرنے والی خواتین نے پولیس کی تفتیش میں بتایا ہے  کہ ایک شادی کرانے میں میرج بیورو چھ ہزار روپئے  بطور فیس وصول کرتا تھا۔ یہاں کام کرنے والے افراد کو پانچ ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ دی جاتی  تھی۔

    پولیس نے میرج بیورو میں کام کرنے والی خواتین کو ابتدائی تفتیش کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ میرج بیورو چلانے والے ویریندر کمار کے خلاف پولیس نے مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی  ہے۔ فی الحال میرج بیورو کا مالک ویریندر کمار پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: