உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوگی حکومت کی ہٹ دھرمی، مدرسہ کے اساتذہ کو پرانا بقایا دینے سے انکار

     وہیں وزارت فروغ انسانی وسائل گزشتہ سال اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت پر3 سال سے وزارت ان ٹیچروں کو تنخواہ نہیں دے سکی ہے۔

     وہیں وزارت فروغ انسانی وسائل گزشتہ سال اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت پر3 سال سے وزارت ان ٹیچروں کو تنخواہ نہیں دے سکی ہے۔

     وہیں وزارت فروغ انسانی وسائل گزشتہ سال اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت پر3 سال سے وزارت ان ٹیچروں کو تنخواہ نہیں دے سکی ہے۔

    • Share this:
      وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والی مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہ ملنے کا معاملہ نامعلوم مدت تک لٹکتا نظرآرہا ہے۔ اتر پردیش حکومت نے پرانا بقایا دینےسے انکار کر دیا ہے تو وہیں وزارت فروغ انسانی وسائل گزشتہ سال اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کی بات کر رہی ہے ۔

      وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والی مدرسہ ٹیچراسکیم کا تقریبا 1000 کروڑ سے زیادہ بقایا مرکزی حکومت پرہے 3 سال سے وزارت ان ٹیچروں کو تنخواہ نہیں دے سکی ہے۔ گزشتہ سال ستمبرمیں 440 کروڑروپئے پروجیکٹ اپروول بورڈ سے منظورکئے گئے تھے، لیکن اسی سال وزارت نے اپنی اسکیم کی کی فنڈنگ ​​میں تبدیلی کرتے ہوئے گائیڈ لائن جاری کر دی تھی جس کے تحت فنڈنگ ​​کا فیصد 60- 40 کردیا گیا۔ یعنی ریاستوں کو 40 فیصد فنڈنگ ​​کرنی تھی۔

      خاص بات یہ تھی سال 19-2018 کے ساتھ ساتھ سال 17-2016 اور سال 18-2017  کے لئے بھی ریاستوں کو پیسہ دینے کے لئےکہا گیا جس پریوگی سرکارنے ہاتھ کھڑے کردیئے اورسال  17-2016 اور 18-2017 کا پیسہ دینے سے انکارکردیا۔ وہیں دوسری طرف مدرسہ ٹیچراسکیم سے وابستہ لوگ فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ خودکشی تک کر چکے ہیں۔

      نیوز 18 اردو پر خبر چلنے کے بعد حکومت کی فضیحت ہونے پر وزارت کی اسکیم سے متعلق پروجیکٹ اپروول بورڈ کے ممبر شاہد اختر صفائی دینے کے لئے آگے آئے۔  شاہد اختر نے کہا وزارت نے گائیڈ لائن میں تبدیلی کر دی ہے ریاستوں کوپرانا بقایا نہیں دینا پڑے گا اسکیم کی فنڈنگ  40-60 کے تناسب کو سال 19-2018 سے نافذ کیا جائے گا۔

      واضح رہے کہ سال15-2014  سے پہلے مدرسہ ٹیچراسکیم کا بجٹ 295 کروڑ سالانہ ہوا کرتا تھا جس کو کم کرکے 120 کروڑ کردیا گیا تھا یہ آج بھی 120 کروڑروپئے ہے۔ اس وقت مدرسہ ٹیچروں کا بقایا 500 کروڑہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ بڑھ کر1500 کروڑکے قریب پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال 440 کروڑ روپئے دیئے جانے کو وزارت نے منظوری دی تھی جس سے 295 کروڑاترپردیش کے مدرسہ ٹیچروں کے لئے تھا، جو پرانا بقایہ دینے کے پیچ کے سبب ریاستوں نے نہیں دیا۔ اب گائیڈ لائن بدلے جانے کے بعد یہ پیسہ دیئے جانے کا راستہ صاف ہوا ہے اورالیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد فنڈ ریلیز ہونے کی امید ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے یہ ہے سال 17-2016 ، 18-2017 کے بقائے کا کیا ہوگا اوراتنا بڑا بقایا ان ٹیچروں کو کب ملے گا اورکونسی حکومت یہ پیسہ دے گی۔
      First published: