ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلمان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے پر حکومت سے براہ راست کریں بات چیت : ظفر سریش والا

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حلف نامہ واپس لینے کا فیصلہ کیاہے جس سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پرخطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اے ایم یو کا اقلیتی درجہ خارج کر دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 30, 2016 09:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلمان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے پر حکومت سے براہ راست کریں بات چیت : ظفر سریش والا
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حلف نامہ واپس لینے کا فیصلہ کیاہے جس سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پرخطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اے ایم یو کا اقلیتی درجہ خارج کر دیا ہے۔

نئی دہلی : مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے چانسلر اور وزیر ا‏عظم نریندر مودی کے قریبی معتمد خیال کئے جانے والے مسٹر ظفر سر یش والا نے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکے معاملے پر مسلم کمیونٹی کے نمائندوں نے قومی جمہوری محاذ(این ڈی اے) حکومت کے ساتھ کبھی رابطہ کرنے کی کوشش ہی نہيں کی ۔

مسٹر سریش والا نے گزشتہ شب علی گڑھ ڈیوٹی سوسائٹی کی تقریب کے دوران علاحدہ طورپر یواین آئی سے کہاکہ "ہم لوگوں نے حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے بجائے یہ تسلیم کرلیا کہ حکومت تو مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کررہی ہے اس لئے ہمیں دشمنی کا سلوک ہی روا رکھنا ہے، یہ کبھی نہيں سوچا کہ بات چیت کی راہ اپنانے سے حالات بدل بھی سکتے ہیں۔ غلطی ہماری کمیونٹی کی ہے کہ ہم نے قومی قیادت کے سامنے کبھی بھی اپنے نقطہ نظر کو پیش ہی نہیں کیا"۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حلف نامہ واپس لینے کا فیصلہ کیاہے جس سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پرخطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اے ایم یو کا اقلیتی درجہ خارج کر دیا ہے۔

گجرات کے صنعتکار مسٹر سریش والا نے کہا کہ انہوں نے سنگھ پریوار اور وشو ہندو پریشد کے لیڈروں سے بھی بات کی ہے اور وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم کمیونٹی آگے آئے اور حکومت سے بات کرے تو بات بن سکتی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایم یو کے اقلیتی درجے سے متعلق 1981 کے ترمیمی بل کو منسوخ کر دیا تھا، اس کے بعد 2006 میں یو پی اے حکومت نے ایک حلف نامہ دائر کر کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اس کے بعد جب وزیر اعظم نریندر مودی اقتدار میں آئے ، تو ان کی حکومت نے اس درخواست کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

First published: Jul 30, 2016 09:28 PM IST