உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈاکٹر ذاکر نائک پر میڈیا ٹرائل ... کہیں بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ بھٹکانے کی یہ کوشش تو نہیں؟

    ہندوستان میں عام انتخابات اور نئی حکومت سازی پر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دوران انتخابات نت نئے وعدوں کے ساتھ  سوا سو کروڑ بهولی بهالی عوام کو اچهے دنوں کے سبز باغ دکهائے گئے۔

    ہندوستان میں عام انتخابات اور نئی حکومت سازی پر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دوران انتخابات نت نئے وعدوں کے ساتھ سوا سو کروڑ بهولی بهالی عوام کو اچهے دنوں کے سبز باغ دکهائے گئے۔

    ہندوستان میں عام انتخابات اور نئی حکومت سازی پر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دوران انتخابات نت نئے وعدوں کے ساتھ سوا سو کروڑ بهولی بهالی عوام کو اچهے دنوں کے سبز باغ دکهائے گئے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      ہندوستان میں عام انتخابات اور نئی حکومت سازی پر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دوران انتخابات نت نئے وعدوں کے ساتھ  سوا سو کروڑ بهولی بهالی عوام کو اچهے دنوں کے سبز باغ دکهائے گئے۔ مہنگائی پر لگام، ہر ہندووستانی کے اکاونٹ میں پندرہ لاکھ روپئے، کالے دهن کی واپسی، بد عنوانیوں کا خاتمہ، سڑک، پانی بجلی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور نہ جانے کیا کچهہ۔  یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ غریب عوام بعد از آزادی ایسے بے شمار وعدوں کو سنتی اور ان پر اعتبار نہ کرتے هوئے جینے کا ہنر آزماتی آئی هے کیونکہ .... کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔

      وعدوں سے وفاء اور اچهے دنوں کی آمد  کو ممکن بنانے کی کوششوں کو بروئے کار لانا تو بڑی دور کی بات تهی، موجودہ حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں عوام الناس کا دهیان بنیادی مسائل سے دور رکهنے کے لئے ہر ممکن طریقہ کار کا استعمال کیا۔ اس مقصد کے تحت اب تک اس حکومت نے دونوں ہی فارمولوں پر بڑی مستعدی سے کام کیا هے ۔اختلاف پیدا کرو اور حکوت کرو ...... اور مذهبی افیم کا نشہ اس قدر عام کردو کہ عوام کو بنیادی مسائل یاد دہانی پر بهی یاد نہ آسکیں۔

      گزشتہ دنوں پیش آئے واقعات ، اخلاق کا قتل، بیف بین اور اعلی پیمانے پر اس کا ایکسپورٹ، روہت ویمولا کا مبینہ مرڈر، گهر واپسی کے ڈرامے، لو جہاد کا بے ہودہ شوشہ، تعلیمی اداروں پر بے جا سیاسی حملے، سیاسی شہ پہ بهونکنے والے پالتو جانوروں کی آئے دن کی بے تکی بیان بازیاں، ریزورویشن کے نام پر هونے والے جانی و مالی نقصانات وغیرہ ..... جیسے تمام اسکرپٹیڈ حادثات انہیں فارمولوں پر عمل درآمد کا حصہ ہیں۔

      بات یہیں ختم نہیں هوتی، آنے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے زیر نظر اب دو اور گهناونے اقدامات هو رهے ہیں۔ آر ایس ایس کی منعقد افطار پارٹی میں مسلم پرسنل لاء کو زائل کرکے 'یکساں سول کوڈ، کے نفاذ کا بگل بجایا گیا۔ لیکن انہیں اچهی طرح معلوم هے کہ یہاں انکی دال گلنے والی نہیں اور اگر جبرا ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی گئ تو بلا تفریق مسلک و مکتب پوری مسلم امت ایک ساتهہ سڑکوں پر آجائے گی۔ لہذا اب سبرا منیم سوامی کی منطق پر عمل کی کوشش کی جارہی هے. سوامی نے اپنے ایک بیان میں ببانگ دہل کہا تها کہ مسلمانوں کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ انہیں کا ہم نوالہ و ہم پیالہ هے اور اسی نصف کو بانٹ کر اپنی طرف کرنے کی ضرورت هے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک پر میڈیا ٹرائل اور حکومت کی منصوبہ بندی کوئی شخصی حملہ نہیں هے بلکہ هندوستانی مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی سوچی سمجهی سازش ہے۔  حکومت وقت کو اچهی طرح معلوم ہے اور همارا یقین کامل هے کہ اسلام کسی ذاکر نائک کی مرهون منت نہیں ہے۔ اللہ کو اپنے اس دین کو تمام عالم پہ غالب کرنا هے اور یہ تمام مخالفتوں کے باوجود هوکر رہیگا۔ ليظهره علي الدين كله ولو كره الكافرون .... اور اس کے غلبہ کے سفر میں ایسی دشواریاں پہلے بهی آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔ رہی بات ڈاکٹر ذاکر نائک کی تو اگر هندوستاں یا بنگلہ دیش میں انکے چینل پر پابندی لگے گی تو اللہ کو اگر ان سے دین کا کام لینا مقصود هے تو اور بہت سے راستے هموار ہوں گے. تاریخ شاهد ہے کہ جب جب مکہ کے قریش نے زمین تنگ کی هے کسی نہ کسی مدینے کے انصار نے اپنی باہیں وا کرکے اسلام کا خیر مقدم کیا ہے۔

      میں گزشتہ کئ دنوں سے ڈاکٹر ذاکر نائک کا میڈیا ٹرائل دیکھ  رها تها۔ اب میں نے اسکرپٹیڈ خبریں دیکهنا بند کردیا هے کیونکہ دیکهتا هوں تو غصے اور جهنجهلاہٹ سے زیادہ ہنسی آنے لگتی هے۔ عجیب نقطہ بحث هے کہ بنگلہ دیش میں انسانیت مخالف حملے کا ایک دهشت گرد ڈاکٹر ذاکر نائک سے متآثر تها اسلئے انکی تفتیش هو اور ان پر پابندی عائد کی جائے. اس سے بهی بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہیکہ ہمارے جموری ملک میں عدلیہ اور تفتیشی ایجینسیوں کی ضرورت قطعا نہیں هوتی، همارا اسمارٹ میڈیا اس کام کو خود انجام دیتا ہے۔.

      مجهے آج تک یہ بات سمجهہ میں نہیں آئی کہ کسی کے برے کام کا ذمہ دار دوسرا کیوں کر هو سکتا هے (ہاں اگر برائی کا موجد هے تو وہ ذمہ دار هوگا) ۔ اور تو اور شوشل نیٹورکس پہ کسی کو فالو کرنے سے اس منطق کا اطلاق کیسے هو سکتا هے۔ اور اگر هوتا هے تو یہ متعصب رویہ کیوں .... سب پر یکساں فارمولے کا استعمال کیوں نہیں ؟ آپ اگر موضوع کی تہہ میں جائیں گے تو آپ کو موجودہ حکومت کے کئی ایسے چہرے ملیں گے جو مبینہ مجرموں، دهشت گردوں اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے بڑے قریبی اور ہم پلہ ملیں گے۔

      دراصل معاملہ ملک کی سیکورٹی یا ذاکر نائک سے کسی خطرے کا نہیں بلکہ مکمل سیاسی هے اور مذهب و مسلک کے نام پر عوام کو اس قدر الجهائے رکهنے کا هے کہ انہیں اپنی بنیادی ضرورتوں کی یاد تک نہ آسکے۔

      گزشتہ دو سالوں میں کیا مذکورہ تمام مسائل اصل بنیادی مسائل سے زیادہ اهم تهے ؟ یا همارے پاس کوئی بنیادی مسئلہ ہی نہیں کہ ان سب کو زیر بحث لایا جائے اور ٹی پر ساس بہو سیرئلز کی طرح روز نت نئے ڈرامے کرکے عوام میں نفرت پیدا کی جائے ؟ هونا تو یہ چاہئے تها کہ همارا میڈیا ایمانداری سے اپنا فرض نبهاتا اور ملک کے بنیادی اہم مسائل پر بحث کراتا تاکہ عوام کے سامنے اپنے چنے گئے نمائندوں کی اصلی صورت آپاتی اور میڈیا پریشر کی بدولت حکومت اپنے وعدوں کو عمل میں لانے کی کوشش کرتی.

      ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر هے۔ دال اور ٹماٹر جیسی بنیادی چیزیں عام آدمی کی پہونچ سے کوسوں دور ہیں ...... اس پر بحث کیوں نہیں ؟ملک کی سرحدیں دن بدن غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں. سرحدوں پر آئے دن همارے جوانوں کی جانیں ضائع هو رہی ہیں۔ پاکستان و چین کی گهس پیٹهہ تهمنے کا نام نہیں لے رہی هے. جنکی هم آنکهیں نکالنے کی باتیں کر رهے تهے آج هم ان سے آنکهہ ملا کر باتیں تک نہیں کر پارهے ہیں ۔ کسانوں کی خود کشی اور انکی زبوں حالی میں قدرے اضافہ هو چکا هے. انکے حالات میں سدهار کے بجائے موجودہ حکومت کی بیشتر توانائ چند امراء کے قروض اور جرمانے معاف کرنے میں صرف هو رهی هے .. اس پر بحث کیوں نہیں ؟ للت مودی اور وجے مالیا جیسے مافیا آسانی سے ملک کو اربوں کا چونا لگا کر نو دو گیارہ هوجاتے ہیں۔ انکی واپسی کی تدابیر تک نہیں کی جاتی ..... اس پر بحث کیوں نہیں ؟ملک کا بہت بڑا سرمایہ غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک کے بینکوں میں پڑا هے. کالے دهن کی واپسی کے وعدوں کے باوجود یہ کہہ کر پلہ جهاڑ لیا جاتا هے کہ یہ سب تو بس "انتخابی جملے" تهے .... اس پر بحث کیوں نہیں ؟ سادهوی، یوگی، توگڑیا، سنگهہ، شاکشی مہاراج، گری راج، سبرامنیم سوامی جیسے بے لگام عناصر محض حکومت کی شہ پر آئے دن اپنے زهریلے بیانات سے ملک کا نہ صرف امن و امان خراب کررهے ہیں بلکہ ملک کو بانٹنے کے درپے ہیں .... اس پر بحث کیوں نہیں ؟ جناب وزیر اعظم کے بے شمار بیرون ملک دوروں کے باوجود هندوستان کو 'این ایس جی' میں جگہ تک حاصل نہ ہو سکی ..... اس پر بحث کیوں نہیں ؟

      اس طرح کے بنیادی مسائل کی فہرست بڑی طویل هے جن پر نہ صرف میڈیا ٹرائل اور بحث بلکہ کام کرنے کی ضرورت هے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کو بلا وجہ دہشت گردی سے جوڑنا یا پهر فلم ایکٹر عرفان خان جیسوں کا قربانی جیسے اهم موضوع پر بلا علم کے بیان بازیاں کرنا اور اسکے بعد تمام بنیادی امور کو بالائے طاق رکھ کر ان پر بحث کرانا اور عوام کو بهٹکانا صرف اور صرف سیاسی ہتهکنڈے ہیں۔

      مذہبی تبلیغ و دعوت ہر ہر ایک هندوستانی کا آئینی حق هے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی بهی مبلغ کا طریقہ کار یا کوئی مواد ملک مخالف هے تو اسے قطعا برداشت نہیں کیا جانا چاهئے کیوں کہ وطن پرستی همارے ایمان کا جزء هے اور کوئ ملک مخالف حرکات کے ساتهہ مومن کہلایا بهی نہیں جا سکتا. هاں ضروری هے کہ کسی شک وشبہے کے وقت مناسب طریقے پر اس کی تفتیش کی جائے اور بلا وجہ ڈرامائ انداز میں میڈیا ٹرایل نہ کیا جائے. حکومت کو بهی چاهئے کہ میڈیا کو آزادی کی آڑ میں من مانی سے روکے اور اگر انکو ہی جرم ثابت کرنے اور سزائیں سنانے کا اختیار حاصل هے تو پهر عدالتوں کے قیام اور ان پر اتنے اصراف کا کیا فائدہ۔

      قارئین... ! ذاکر نائک سے کسی موضوع پر مسلکی اختلافات اپنی جگہ، اس پر آپ اعتراضات اور سوالات کر سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ سیاسی سازش کو ہمیں بڑی باریکی سے سمجهنا هوگا ورنہ آج ذاکر نائک ہیں تو کل کوئی اور هوگا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رهیگا۔ ضروری هے کہ ہم بلا تفریق مسلک و مکتب اس گهڑی میں شانہ بہ شانہ کهڑے هوں تاکہ نہ صرف یہ کہ کسی پر بے جا الزامات کا دفاع کیا جاسکے بلکہ ملک کو ٹوٹنے سے بهی بچایا بهی جا سکے۔

      ڈاکٹر عبدالرحیم خان کی تحریر

      نوٹ: مضمون نگار سعودی عرب میں ایک کمپنی سے وابستہ ہیں اور حالات حاضرہ پر ان کی گہری نظر ہے۔

      اس مضمون میں پیش کئے گئے خیالات مکمل طور پر نجی ہیں اور پردیش ۱۸ اردو اس میں درج  باتوں کی نہ تو حمایت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حق یا مخالفت میں اپنی رضامندی ظاہر کرتا ہے۔
      First published: