உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو معاملہ میں زی نیوز کی متعصبانہ رپورٹنگ پر چینل کے پروڈیوسر نے دیا استعفیٰ

    نئی دہلی۔ جے این یو تنازعہ کی متعصبانہ رپورٹنگ پر ہندی نیوز چینل زی نیوز کے ایک پروڈیوسر نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹی وی چینل سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

    نئی دہلی۔ جے این یو تنازعہ کی متعصبانہ رپورٹنگ پر ہندی نیوز چینل زی نیوز کے ایک پروڈیوسر نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹی وی چینل سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ جے این یو تنازعہ کی متعصبانہ رپورٹنگ پر ہندی نیوز چینل زی نیوز کے ایک پروڈیوسر نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹی وی چینل سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شئیر کئے گئے اپنے استعفیٰ نامہ میں چینل کے پروڈیوسر وشو دیپک نے لکھا ہے کہ ہم  صحافی اکثر دوسروں پر سوال اٹھاتے ہیں ، لیکن کبھی خود پر نہیں۔ ہم دوسروں کی ذمہ داری طے کرتے ہیں لیکن اپنی نہیں۔ ہمیں جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے ، لیکن کیا ہم، ہمارے ادارے ، ہماری سوچ اور ہمارا طریق کار جمہوریت ہے؟

      آگے انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سوال صرف میرا نہیں ہے، ہم سب کا ہے۔ جے این یو طلبہ یونین لیڈر کنہیا کمار کو حب الوطنی کے نام پر جس طرح سے فریم کیا گیا اور میڈیا ٹرائل کر کے اسے ملک مخالف تعبیر کیا گیا، یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ جے این یو معاملہ کو جس طرح سے زی نیوز نے کور کیا ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

      انڈین ایکسپریس میں چھپی خبر کے مطابق، زی نیوز کو بھیجے اپنی استعفیٰ نامہ میں دیپک نے لکھا ہے کہ چینل نے ‘ پاکستان زندہ باد’ کے کیپشن کے ساتھ نعرہ لگانے والے طلبہ کا ایک ویڈیو نشر کیا۔ حالانکہ ویڈیو میں پاکستان زندہ باد کا کوئی نعرہ نہیں تھا۔ اس ویڈیو کو بار بار دکھایا گیا تاکہ پاگل پن بڑھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے کیسے یہ پتہ لگا لیا کہ کنہیا اور اس کے ساتھی ملک مخالف نعرے لگا رہے ہیں جبکہ ہمیں جو آواز سنائی دے رہی تھی وہ تاریکی سے آ رہی تھی۔ خط میں لکھا ہے کہ ہم بہت زیادہ متعصب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ کورٹ زندہ باد کو پاکستان زندہ باد سمجھ لیا گیا اور پھر اس کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی جانے لگی۔
      First published: