உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mohammed Zubair: محمد زبیر پہنچے سپریم کورٹ، اپنے خلاف درج 6 ایف آئی آر کو ختم کرنےکی درخواست

    محمد زبیر (فائل فوٹو)

    محمد زبیر (فائل فوٹو)

    ایک متعلقہ پیش رفت میں ایڈیشنل سیشن جج دیویندر کمار جنگلا نے دہلی پولیس کے ذریعہ 2018 کے ٹویٹ کیس میں زبیر کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواست پر جمعہ کو سنائے جانے کا متوقع حکم محفوظ رکھا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کی عدالت میں ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

    • Share this:
      آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر (Alt News co-founder Mohammed Zubair) نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ کا رخ کرتے ہوئے اتر پردیش کے کئی اضلاع میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ان کے خلاف درج چھ ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور تمام معاملات میں عبوری ضمانت کی بھی درخواست کی۔ صحافی محمد زبیر کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب یوپی کے ہاتھرس کی عدالت نے زبیر کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

      زبیر ایک ایسے معاملے میں دہلی میں عدالتی حراست میں ہے جس کا تعلق ایک مبینہ قابل اعتراض ٹویٹ سے ہے جو اس نے 2018 میں ایک ہندو دیوتا کے خلاف پوسٹ کیا تھا، اسے تہاڑ جیل سے دہلی پولیس کی حفاظت کے ساتھ ہاتھرس کی عدالت میں لایا گیا اور عدالت کے بعد واپس لے جایا گیا۔ جب کہ ان کے وکیل امنگ راوت نے دلیل دی کہ چونکہ یہ معاملہ چار سال پرانا ہے، اسی لیے صحافی کی گرفتاری ’’ صرف بدنام کرنا کا بہانہ‘‘ ہے اور یہ سیاسی دباؤ کے تحت کی گئی ہے۔

      ایک متعلقہ پیش رفت میں ایڈیشنل سیشن جج دیویندر کمار جنگلا نے دہلی پولیس کے ذریعہ 2018 کے ٹویٹ کیس میں زبیر کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواست پر جمعہ کو سنائے جانے کا متوقع حکم محفوظ رکھا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کی عدالت میں ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ضمانت کی عرضی پر دلائل سنتے ہوئے جج نے استغاثہ سے پوچھا کہ کیا دہلی پولیس نے ان لوگوں کے بیانات سنے کیے ہیں جو مبینہ قابل اعتراض ٹویٹ سے ناراض محسوس ہوئے؟ جب کہ پبلک پراسیکیوٹر اتل سریواستو نے یہ دعویٰ کیا کہ زبیر لوگوں کو اکسانے اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتا ہے۔

      اس پر جج نے پوچھا کہ کتنے لوگ ناراض ہوئے؟ آپ نے کتنے بیانات جمع کیے؟۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقررہ وقت پر ہو جائے گا۔ صحافی کی طرف سے پیش ہونے والی ایڈووکیٹ ورندا گروور نے کہا کہ زبیر کی چار سال پرانی ٹویٹ کو ایک گمنام ٹویٹر صارف نے ری ٹوئٹ کیا اور اس کا غلط مطلب نکالا، جو اس کا اکاؤنٹ بنانے کے بعد ان کا پہلا ٹویٹ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے چار سال پرانی ٹویٹ پر تنازعہ کھڑا کیا اور زبیر پر ملک میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: Ivana Trump Passes Away: سابق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی پہلی بیوی ایوانا ٹرمپ نہیں رہیں

      ایک مجسٹریل عدالت نے 2 جولائی کو زبیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی اور پانچ دن کی تحویل میں پوچھ گچھ ختم ہونے کے بعد انھیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ دہلی پولیس نے زبیر کو 27 جون کو اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستانی صحافی نصرت مرزاکے الزامات کا سابق نائب صدرHamid Ansari نےدیا جواب، کہی یہ بڑی بات

      سپریم کورٹ میں زبیر کی درخواست میں یوپی حکومت کی طرف سے ریاست میں ان کے خلاف درج چھ مقدمات کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: