உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منفرد لب ولہجہ کے شاعراور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری زبیررضوی کا انتقال

    نئی دہلی۔  منفرد لب و لہجے کے شاعر اور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری زبیر رضوی کا آج اکیڈمی کے سہ روزہ سمینار کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں صدارتی کلمات پیش کرنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

    نئی دہلی۔ منفرد لب و لہجے کے شاعر اور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری زبیر رضوی کا آج اکیڈمی کے سہ روزہ سمینار کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں صدارتی کلمات پیش کرنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

    نئی دہلی۔ منفرد لب و لہجے کے شاعر اور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری زبیر رضوی کا آج اکیڈمی کے سہ روزہ سمینار کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں صدارتی کلمات پیش کرنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  منفرد لب و لہجے کے شاعر اور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری زبیر رضوی کا آج اکیڈمی کے سہ روزہ سمینار کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں صدارتی کلمات پیش کرنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ وہ 82 برس کے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اور دوبیٹے ہیں ۔آل انڈیا ریڈیو میں 30 سالہ خدمات کے بعد اعلیٰ عہدے سے ریٹائر زبیر رضوی 15 اپریل 1935 کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ان کی اہم نگارشات میں لہو لہو ندیا گہری، کشت دیوار، مسافت شب، پرانی بات ہے، دھوپ کا سائبان وغیرہ شامل ہیں۔ مرحوم منفرد رسالہ جدید ذہن کے مدیر تھے ۔


       زبیر رضوی کے انتقال کو ماہنامہ آجکل کے مدیر ابرار رحمانی نے اردو ادب کا زبردست نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ ذہن جدید جیسا منفرد رسالہ نکالنے والا یہ ادیب اپنے رسالے کے زیر ترتیب شمارے میں مرحوم انتظار حسین اور ندا فاضلی پر ان کے شایان شان چیزیں چھاپنے کی تیاریوں میں تھے لیکن کسے معلوم تھا کہ وہ خود ان دونوں کے پیچھے پیچھے چل پڑے ہیں۔ مسٹر رحمانی نے کہا کہ عمر کے اس پڑاؤ میں بھی وہ جس قدر چست درست نظر آتے تھے ، اس کے پیش نظر یہ سانحہ گزرنے کا کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا۔

      First published: