سنگھل کی موت کے بعد اب رائے بریلی کی عدالت میں اجودھیا معاملے کے صرف 6 ملزمین ہی زندہ رہ گئے

رائے بریلی: پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے اجودھیا کے چھ دسمبر 1992 کے واقعہ کے ایک اور ملزم اشوک سنگھل کی موت کے ساتھ ہی اب رائے بریلی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت میں چل رہے مقدمے میں چھ ملزم ہی بچے ہیں۔

Nov 18, 2015 11:13 PM IST | Updated on: Nov 18, 2015 11:13 PM IST
سنگھل کی موت کے بعد اب رائے بریلی کی عدالت میں اجودھیا معاملے کے صرف 6 ملزمین ہی زندہ رہ گئے

رائے بریلی: پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے اجودھیا کے چھ دسمبر 1992 کے واقعہ کے ایک اور ملزم اشوک سنگھل کی موت کے ساتھ ہی اب رائے بریلی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت میں چل رہے مقدمے میں چھ ملزم ہی بچے ہیں۔

اجودھیا میں رام جنم بھومی تھانے کے 198/12 نمبر مقدمے میں مسٹر سنگھل سمیت آٹھ افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ مسٹر سنگھل کے علاوہ لال کرشن اڈواني، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، آچاریہ گری راج کشور، وشنو ہری ڈالمیا اور ونے کٹیار ملزم ہیں۔

مسٹر سنگھل کی کل موت ہو گئی جبکہ آچاریہ گری راج کشور کی موت دو سال پہلے ہو گئی تھی۔ رائے بریلی میں چل رہے مقدمے میں اب چھ ملزم ہی زندہ بچے ہیں۔ رائے بریلی میں 53 ویں گواہ کے طور پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں اجودھیا کے سید اخلاق احمد کی گواہی چل رہی ہے۔ 52 لوگوں کی گواہی ہو چکی ہے۔

Loading...

Loading...