بابری مسجد گرانے میں اس وقت کے وزیر اعظم اور آر ایس ایس میں تھا خفیہ معاہدہ: اعظم

رام پور۔ اپنے بیانات کو لے کر اکثر شہ سرخیوں میں رہنے والے اتر پردیش کے شہر ی ترقی اور اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خاں نے الزام لگایا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا تھا۔

Dec 25, 2015 11:08 PM IST | Updated on: Dec 25, 2015 11:08 PM IST
بابری مسجد گرانے میں اس وقت کے وزیر اعظم اور آر ایس ایس میں تھا خفیہ معاہدہ: اعظم

رام پور۔  اپنے بیانات کو لے کر اکثر شہ سرخیوں میں رہنے والے اتر پردیش کے شہر ی ترقی اور اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خاں نے الزام لگایا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا تھا۔  مسٹر خان نے آج یہاں صحافیوں سے کہا کہ چھ دسمبر 1992 کو متنازعہ بابری مسجد کے منہدم ہوتے وقت سیکورٹی بھی موجود تھی لیکن اسی معاہدے کی وجہ سے سب ایک کنارے کھڑے ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی پر ان کا الزام نہیں ہے لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے۔

ایودھیا میں تازہ واقعات کی بابت پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں کسی معاملے کو دبانے کے بجائے اس کا حل نکالا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک تمام فریقوں کو تحمل برتنا چاہئے۔ ایس پی لیڈر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بنیادی مسائل پر کام کرنے کے بجائے لوگوں کو بھڑكانے میں زیادہ یقین کرتی ہے اسی لئے بیچ بیچ میں ایودھیا جیسے مسائل کو ہوا دی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی پر انہوں نے طنز کیا اور کہا کہ ملک کے مسائل پر غور کرنے کے بجائے مسٹر مودی کو بین الاقوامی لیڈر بننے کی فکر زیادہ ہے۔

Loading...

Loading...