اسمیتا بھادوڑی انکاؤنٹر کو سی بی آئی عدالت نے فرضی قراردیا ، ہاشم پورہ متاثرین کی امیدیں بھی جاگیں

غازی آباد : پندرہ سال قبل میرٹھ میں ہوئے اسمیتا بھادوڑی انکاؤنٹر کو غازی آباد کی سی بی آئی عدالت نے فرضی قرار دیتے ہوئے تین پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا ہے ۔

Dec 13, 2015 04:38 PM IST | Updated on: Dec 13, 2015 04:42 PM IST
اسمیتا بھادوڑی انکاؤنٹر کو سی بی آئی عدالت نے فرضی قراردیا ، ہاشم پورہ متاثرین کی امیدیں بھی جاگیں

غازی آباد : پندرہ سال قبل میرٹھ میں ہوئے اسمیتا بھادوڑی انکاؤنٹر کو غازی آباد کی سی بی آئی عدالت نے فرضی قرار دیتے ہوئے تین پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا ہے ۔

سی بی آئی عدالت کے فیصلے سے جہاں اسمیتا کے اہل خانہ کو انصاف ملااور انہوں نے راحت کی سانس لی ، وہیں میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین کی بھی امیدیں ایک مرتبہ پھر جاگ اٹھی ہیں اور وہ بھی اس کیس کو ایک نظیر کے طور پر پیش کرکے ہاشم پورہ قتل عام معاملے میں بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف ملنے کی امید کر نے لگے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ پندرہ سال پہلے جنوری 2000 میں ہوئے انکاؤنٹر نے پولیس کی کارکردگی کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ انکاؤنٹر میں گریجویشن کی طالبہ اسمیتا کو موت ک گھاٹ اتار دیا گیا تھا ، جس سے ایک خوشحال اور ہنستے کھیلتے کنبہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔

تاہم اب سی بی آئی کی عدالت کے ذریعہ اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دئے جانے اور پولیس اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد کنبہ کو انصاف ملا ہے۔ کنبہ نے عدالت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے ۔

Loading...

خیال رہے کہ 1987 کے فرقہ وارانہ فساد کے دوران ہاشم پورہ قتل عام میں 42 زندگیاں ختم کردی گئی تھیں اور متعدد خاندان برباد ہو گئے ، لیکن 28 سال کے وقفے کے بعد بھی نہ تو ان متاثرین کو انصاف ملا ہے اور نہ ملزمین کو سزا ۔

تاہم اسمیتا فرضی انکاؤنٹر کیس میں ملزمین پر جرم ثابت ہونے کے بعد اب مجرموں کو سزا کی امید نے ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین کے لئے بھی انصاف کی امید پیدا کردی ہے۔

Loading...