مرکزی وزیر کی پھسلی زبان ، ایک ہی ساتھ دئے کئی متنازعہ بیان ، کہا : ہندوستان کی روح میں نہیں بائبل اور قرآن

میرٹھ : یوں تو مرکز میں مودی سرکار کے آنے کے ساتھ ہی بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ متنازعہ بیانات دئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔

Sep 14, 2015 09:09 AM IST | Updated on: Sep 14, 2015 09:09 AM IST
مرکزی وزیر کی پھسلی زبان ، ایک ہی ساتھ دئے کئی متنازعہ بیان ، کہا : ہندوستان کی روح میں نہیں بائبل اور قرآن

میرٹھ : یوں تو مرکز میں مودی سرکار کے آنے کے ساتھ ہی بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ متنازعہ بیانات دئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔گری راج سنگھ، یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی بی جے پی لیڈر تو متنازعہ بیانات کیلئے ہی جانے جاتے ہیں ، مگر اب ایک مرکزی وزیر نے بھی متنازعہ بیان دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مودی کی قیادت والی حکومت کے ذریعہ تعلیم کے بھگوا کرن کی در پردہ کوششوں کا بھی راز فاش کردیا ہے ۔

خیال رہے کہ کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیاں این ڈی اے کی مرکزی حکومت پر ملک میں تعلیم کے بھگوا کرن کے الزامات لگاتی رہی ہیں ، مگر اب مرکزی وزیر نے بھی اس بات کا اعتراف کرلیا ہے ۔

سیاحت اور ثقافت کے وزیر مملکت ڈاکٹر مہیش شرما نے ایک ہی ساتھ کئی متنازعہ بیانات دئے ہیں ۔ مہیش شرما نے کہا کہ بائبل اور قرآن ہندوستان کی روح میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ بائبل اور قرآن کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں رامائن اور مہابھارت کی تعلیم لازمی کر دینی چاہئے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سیاحت اور ثقافت کے وزیر مملکت نے کہا کہ اسکولوں میں رامائن اور مہابھارت کی تعلیم لازمی کرنے کے منصوبے پر مرکزی انسانی وسائل کے وزیر اسمرتی ایرانی کام کر رہی ہیں۔

Loading...

مہیش شرما نے دسہرہ پر پورے ملک بھر میں گوشت پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا ۔ نوئیڈا سے بی جے پی کے رہنما نے کہا کہ اکیلے مہاراشٹر میں ہی جین معاشرے کے پريوشن تہوار کے دوران ہی نہیں بلکہ نوراتری میں بھی ملک بھر میں گوشت کی فروخت پابندی ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اخلاقیات میں گراوٹ آرہی ہے۔ ثقافتی آلودگی پھیل گئی ہے، جسے مودی حکومت دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات واضح نہیں کی کہ ثقافتی آلودگی کیا ہے ۔

مہیش شرما نے یہ بھی کہا کہ اگر اس ملک میں ہندی کو بچائے رکھنا ہے تو اسکولوں میں اس کی تعلیم لازمی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں جرمن کی بجائے سنسکرت کی تعلیم پر زور دیا جانا چاہئے۔ بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ وہ پہلے مقامی زبانیں سیکھیں، پھر غیر ملکی زبانوں پر توجہ دیں۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com